بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 ربیع الاول 1444ھ 01 اکتوبر 2022 ء

دارالافتاء

 

نفع کی تعیین کیے بغیر رقم سرمایہ کاری کے لیے لینا


سوال

کیا کسی سے یہ کہہ کر رقم لینا جائز ہے کہ تم مجھے رقم دے دو،  میں کسی کاروبار میں ڈال کر اچھا نفع دوں گا، جب کہ نفع  کی شرح بھی مقرر نہ کرے؟

جواب

جو شخص رقم لے رہا ہے، اگر اس کا سرمایہ بھی اس کاروبار میں شامل ہوگا جس میں دوسرے کا لگائے گا  تو مذکورہ معاملہ شرکت کا معاملہ کہلائے گا ،اور شرکت میں فریقین کے درمیان نفع کا تناسب شرعی اصولوں کے مطابق طے ہونا ضروری ہے،  نفع کا تناسب طے نہ کرنے کی وجہ سے شرکت فاسد ہوجائے گی ،اور اگر سرمایہ ایک کا ہو اور محنت دوسرے کی  تو یہ معاملہ مضاربت کا  ہے اور مضاربت میں بھی شرعًا نفع کا تناسب طے ہونا ضروری ہے، نفع کا تناسب طے نہ کرنے کی وجہ سے مضاربت کا معاملہ  فاسد ہوجائے گا؛  لہٰذا بصورتِ  مسئولہ کاروبار کے لیے بغیر کچھ طے کیے رقم لینا شرعًا درست نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144110201169

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں