بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 شوال 1445ھ 17 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

ناف کے نیچے ہاتھ باندھنے کا حکم


سوال

احناف نماز کے دوران زیر ناف ہاتھ باندھتے ہیں، جبکہ صحیح احادیث میں سینے پر ہاتھ باندھنے کے بارے میں آیا ہے، برائے مہربانی وضاحت کریں۔

جواب

احناف رحمہم اللہ کے ہاں نماز کے دوران قیام کی حالت میں ہاتھ ناف کے نیچے باندھنا ہی راجح ہے، مختلف روایات اور آثارِ صحابہ سے یہ ثابت ہے، مثلاً امام ابوداود رحمہ اللہ نے حدیث روایت کی ہے:

"عن أبي جحيفة  : أن عليا رضي الله عنه قال [ من ] السنة وضع الكف على الكف في الصلاة تحت السرة ".

(سنن أبي داود، کتاب الصلوۃ، باب وضع اليمنى على اليسرى في الصلاة، رقم الحدیث:756، ج:1، ص:200، ط:المکتبۃ العصریۃ)

ترجمہ:" حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سنت یہ ہے کہ ہتھیلی کو ہتھیلی پر رکھ کر ناف کے نیچے باندھا جائے۔"

اس حدیث میں  ہتھیلی کو ہتھیلی پر رکھ کر ناف کے نیچے باندھنے کو سنت قراردیا گیا ہے،  اور ’’علمِ مصطلح الحدیث‘‘ کا طے شدہ اصول ہے کہ جب کوئی صحابی کسی عمل کو سنت کہے تو وہ حدیث مرفوع کےحکم میں ہوتی ہے، اور سینے پر ہاتھ باندھنے کی روایات اس کے مقابلہ میں مرجوح ہیں۔

نصب الرايۃ  فی تخریج احادیث الہدایۃ میں ہے:

"واعلم أن لفظة السنة يدخل في المرفوع عندهم، قال ابن عبد البر في التقصي: واعلم أن الصحابي إذا أطلق اسم السنة، فالمراد به سنة النبي صلى الله عليه وسلم، وكذلك إذا أطلقها غيره ما لم يضف إلى صاحبها، كقولهم: سنة العمرين، وما أشبه ذلك، انتهى كلامه".

(کتاب الصلوۃ، باب صفۃ الصلوۃ، ج:1، ص:314، ط:مؤسسۃ الریان للطباعۃ)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144502100615

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں