بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 رجب 1444ھ 28 جنوری 2023 ء

دارالافتاء

 

نادانی میں کفریہ کلمہ کہنے کا حکم


سوال

کسی شخص نے کوئی کفریہ بات بول دی ہو اور وہ کافر ہو گیا ہو لیکن اسے پتہ نہیں ہو کہ یہ کفریہ بات ہے بعد میں وہ نیکی اور ثواب کی نیت سے لا إله إلا الله محمد رسول الله پڑھ لے تو کیا وہ مسلمان ہو جائے گا؟

جواب

اگر کفریہ کلمات بھول سے کہہ دیے ہوں اور کہنے والے کو اس بات کا علم نہ ہو کہ یہ کلمہ کفریہ ہے تو یہ نادانی شرعا عذر نہیں ہے اور اس جہالت کا شریعت میں کوئی اعتبار نہیں ہے ، ایسی صورت میں تجدیدِ ایمان ضروری ہے اور اگر کہنے والا شادی شدہ ہے تو تجدیدِ نکاح بھی ضروری ہوگا۔

تجدید ایمان کا طریقہ یہ ہے کہ  کلمۂ شہادت زبان سے ادا کیا جائے اور دل سے اس کی تصدیق کی جائے، اسی طرح اللہ تعالیٰ کی کتابوں، فرشتوں، رسولوں، آخرت کے دن، اچھی بری تقدیر اور روزِ قیامت جیسے بنیادی عقائد پر ایمان کا اعتراف کرلے۔ نیز اگر کسی چیز سے انکار کی بنا پر ایمان سے خارج ہوگیا تھا تو اس کا اقرار کر لے (مثلاً توحید کا انکار کرنے کی وجہ سے ایمان سے خارج ہوگیا تھا تو توحید کا اقرار کرے)، اور کسی ایسی چیز کو اختیار کرلیا تھا جو ایمان کے خلاف تھی تو اس سے بے زاری اور براءت کرے، مثلاً عیسائی مذہب اختیار کر لیا تھا جس وجہ سے ایمان سے خارج ہوگیا تھا تو عیسائی مذہب سے بے زاری  اور براءت کرے۔

مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر :

"فما يكون كفرًا بالاتفاق يوجب إحباط العمل كما في المرتد وتلزم إعادة الحج إن كان قد حجّ ويكون وطؤه حينئذ مع امرأته زنا والولد الحاصل منه في هذه الحالة ولد الزنا، ثم إن أتى بكلمة الشهادة على وجه العادة لم ينفعه ما لم يرجع عما قاله؛ لأنه بالإتيان بكلمة الشهادة لايرتفع الكفر، وما كان في كونه كفرًا اختلاف يؤمر قائله بتجديد النكاح وبالتوبة والرجوع عن ذلك احتياطًا، وما كان خطأً من الألفاظ لايوجب الكفر فقائله مؤمن على حاله ولايؤمر بتجديد النكاح ولكن يؤمر بالاستغفار والرجوع عن ذلك، هذا إذا تكلم الزوج، فإن تكلمت الزوجة ففيه اختلاف في إفساد النكاح، وعامة علماء بخارى على إفساده لكن يجبر على النكاح ولو بدينار وهذا بغير الطلاق".

(كتاب السير، باب المرتد، الصبي العاقل إذا ارتد، (1/  687) ط: دار إحياء التراث العربي)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144310101055

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں