بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 رجب 1444ھ 28 جنوری 2023 ء

دارالافتاء

 

نبی کو فقیہ کہنا


سوال

میں ”فقیہ“  کی مکمل تعریف جاننا چاہتا ہوں اور یہ پوچھنا  چاہتا ہوں کہ انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام میں  سے کس معزز نبی کو ”فقیہ“ کہا جاسکتا ہے، نیز آیا ان کو فقیہ کہنا درست ہے اور ادب کے  تقاضوں کے مطابق ہوگا یا نہیں، نیز اگر انبیاء کرام میں سے کسی نبی کو  ”فقیہ “ کہا جاسکتا ہے تو وہ نبی کون ہیں، اگر ایسے انبیاء جن کو فقیہ کہا جاسکتا ہے ایک سے زائد ہیں تو سب سے پہلے فقیہ کا نام کیا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ نبوت ورسالت وہ اعلیٰ ترین منصب ہے جو  اللہ تعالیٰ کی طرف سے مخصوص بندوں کو عطا کیا جاتا ہے،  تمام کائنات میں انسان اشرف المخلوقات ہے اور نبوت انسانیت کی آخری معراج اور  کمال ہے، انسانیت کے بقیہ تمام مراتب وکمالات اس سے پست اور فروتر ہیں،  انسانی فکر کی کوئی بلندی نبوت کی حدوں کو نہیں چھو سکتی، نہ انسانیت کا کوئی شرف وکمال اس کی گردِراہ کو پہنچ سکتا ہے، اس سے اوپر بس ایک ہی مرتبہ ہے اور وہ ہے حق تعالیٰ کی ربوبیت والوہیت کا مرتبہ!  منصبِ نبوت عقولِ انسانی سے بالاتر ہے، اس کی پوری حقیقت صرف وہی جانتا ہے جس نے یہ منصب عطا فرمایا، یا پھر ان مقدس ہستیوں کو معلوم ہوسکتی ہے جن کو اس منصب رفیع سے سرفراز کیا گیا۔ ان کے علاوہ تمام لوگوں کا علم وفہم سرِّنبوت کی دریافت سے عاجز اور عقل اس کی  صحيح  حقیقت کے ادراک سے قاصر ہے ۔

دوسری طرف اصطلاح میں  ”فقیہ “ اس کو کہا جاتا ہے جو شرعی وعملی احکام اور قوانین کے علم  کو   ان کے تفصیلی دلائل سے  جانتا ہو،  فقیہ قرآن وسنت  کے مسائل کو ان کے دلائل کے ساتھ جانتا ہے ، اور قرآن وحدیث سے مسائل کا استنباط کرتا ہے، اس پر وحی نازل نہیں ہوتی،    جب کہ ”نبی“  کے پاس براہ ِ راست وحی کا علم ہوتا ہے، اور  شریعت کے احکامات براہِ راست  اللہ کی طرف سے   اس  پر نازل ہوتے ہیں، لہذا  فقیہ کے مرتبہ کا نبی کے مرتبہ سے کوئی تقابل ہی نہیں ہے،  ہر نبی یقیناً   ” فقیہ “ ہوتا ہے بلکہ فقیہ اعظم   ہوتا ہے، لیکن ہر فقیہ نبی نہیں ہوتا،  فقیہ ، نبی کے امتیوں کے مراتب میں   ایک مرتبہ ہے،  جب کہ امتیوں کے تمام مراتب سے نبوت کا منصب بہت ہی اعلیٰ وارفع ہے، لہذا نبی کو اصطلاحی معنی میں” فقیہ“  کہنا ان کی شان کے مطابق نہیں ہے۔

إحياء علوم الدين میں ہے:

"وأن الفقه أشرف منه من ثلاثة أوجه. أحدها: أنه علم شرعي؛ إذ هو مستفاد من النبوة۔"

 (1/ 19، كتاب العلم، دارالمعرفة، بيروت)

الفصول في الأصول میں ہے:

"فأما قوله تعالى: {وما ينطق عن الهوى إن هو إلا وحي يوحى}؛ فإن فيه جوابين: أحدهما: أنه أراد القرآن نفسه؛ لأنه قال تعالى: { والنجم إذا هوى } قيل في التفسير معناه القرآن إذا نزل.

والوجه الثاني: أن الاجتهاد لما كان مصدره عن الوحي؛ لأن الله قد أمر به، فدل عليه، جاز أن يقال : إن ما أداه إليه اجتهاد فهو عن وحي؛ لأنه قد أوحي إليه باستعمال الاجتهاد".

(3 / 243، باب القول في أن النبي هل كان يسن من طريق الاجتهاد، ط: وزارة الأوقاف الكويتية)

فتاوی شامی میں ہے:

"فالفقه لغةً: العلم بالشيء، ثم خص بعلم الشريعة، وفقه بالكسر فقهاً علم، وفقه بالضم فقاهةً صار فقيهاً. واصطلاحاً: عند الأصوليين: ’’العلم بالأحكام الشرعية الفرعية المكتسب من أدلتها التفصيلية۔"

(1/ 36، مقدمة، ط : سعيد)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144304100527

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں