بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

23 شوال 1443ھ 25 مئی 2022 ء

دارالافتاء

 

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی زوجہ کو طلاق دینا


سوال

کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی زوجہ کو طلاق دی تھی ؟

 

جواب

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اَزواجِ مطہرات  میں سے  حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کو طلاق دی تھی، لیکن پھر رجوع فرما لیا تھا۔

اس کے علاوہ ایسی عورتیں جن سے آپ کا نکاح ہوا اور رخصتی نہیں ہوئی اور ان کو طلاق دے دی  یا صرف نکاح کا پیغام بھیجا اور پھر کسی وجہ سے عقد نہیں کیا ایسی  عورتیں کے ناموں میں ، تعداد اور فرقت کے اسباب میں بہت اختلاف ہے، علامه ابن قيم رحمه الله  نے "زاد المعاد"  ميں  ان کی تعداد  چار یا پانچ ذکر کی ہے، جب کہ  علامہ یوسف الصالحی الشامی نے "سبل الھدى والرشاد"  میں  ان کی تعداد 26 تک ذکر کی ہے،  جب کہ  بعض  محققین نے ان میں  چند واقعات کو ایک ہی شمار کیا ہے، اس لحاظ سے یہ تعداد کم ہوجاتی ہے، ان میں سے مشہور چند  یہ ہیں: 

1۔ ابنۃ الجون،  اس کے نام میں اختلاف ہے،  مشہور یہ ہے کہ عمرہ بنت جون، یا اسماء بنت نعمان بن الجون۔

2۔  فاطمۃ بنت الضحاک۔

3۔امیمہ بنت شراحیل۔

سنن أبي داود، ت الأرنؤوط (3/ 593):

'' عن عمر: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم طلق حفصة، ثم راجعها''۔

حاشية السندي على سنن ابن ماجه (1 / 622):

" قوله:  (طلق حفصة) فيه جواز التطليق وأنه لا ينافي الكمال إذا كان لمصلحة" 

زاد المعاد في هدي خير العباد (1 / 110):

"وأما من خطبها ولم يتزوجها ومن وهبت نفسها له ولم يتزوجها فنحو أربع أو خمس، وقال بعضهم: هن ثلاثون امرأة، وأهل العلم بسيرته وأحواله صلى الله عليه وسلم لا يعرفون هذا، بل ينكرونه، والمعروف عندهم أنه بعث إلى الجونية ليتزوجها فدخل عليها ليخطبها فاستعاذت منه فأعاذها ولم يتزوجها، وكذلك الكلبية، وكذلك التي رأى بكشحها بياضا فلم يدخل بها، والتي وهبت نفسها له فزوجها غيره على سور من القرآن، هذا هو المحفوظ، والله أعلم."

سبل الهدى والرشاد في سيرة خير العباد (11 / 221):

"باب الرابع عشر في ذكر من عقد عليها ولم يدخل بها صلى الله عليه وسلم

علي خلاف في بعضهن، هل هي ممّن عقد عليها أم لا؟ والكلام في ذلك طويل الذّيل، والخلاف فيه منتشر، حتى قال في زاد المعاد بعد أن ذكر النسوة اللاتي دخل بهن: وأما من خطبها ولم يتزوّج بها فنحو أربع أو خمس. قال الحافظ الدّمياطي: هن ثلاثون امرأة، وأهل السير وأحواله لا يعرفون هذا بل ينكرونه، والمعروف عندهم أنه بعث إلى الجونيّة ليتزوّجها، فدخل عليها ليخطبها، فاستعاذت منه، فأعاذها ولم يتزوّجها، وكذلك الكلابيّة، وكذلك من رأى بكشحها بياضا، فلم يدخل بها، والّتي وهبت نفسها له فزوّجها غيره على سور من القرآن، هذا هو المحفوظ، وإذا علم ذلك فأذكر ما وقفت عليه منهنّ."

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144212201675

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں