بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ذو الحجة 1441ھ- 08 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

نابینا امام / حافظہ کا تراویح پڑھانا


سوال

1- اپنے حفظِ  قرآن کو قائم رکھنے کے لیے نابینا شخص تراویح کی نماز میں امامت کرسکتا ہے؟

2- کیا حافظہ تراویح میں امامت کر سکتی ہے؟

جواب

1- اگر نابینا امام جسم اور کپڑوں کی اچھی طرح طہارت کا اہتمام کرتا ہو، تو اس کی امامت  بلاکراہت درست ہے اور اس کے پیچھے تراویح کی نماز پڑھی جاسکتی ہے۔

2- فرض نماز ہو یا نفل، عورت کا عورتوں کے لیے امام بننا مکروہِ تحریمی ہے، خواتین کے لیے یہی حکم ہے کہ وہ تنہا اپنی نماز ادا کریں، تراویح کی جماعت نہ کریں۔

"فعلم أن جماعتهن وحدهن مکروهة". (إعلاء السنن ۴؍۲۲۶)

"عن علي بن أبي طالب رضي اللّٰه عنه أنه قال: لا تؤم المرأة . قلت: رجاله کلهم ثقات". (إعلاء السنن ۴؍۲۲۷ دار الکتب العلمیة بیروت) فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144109200750

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں