بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 محرم 1446ھ 13 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

نبی اور رسول کون ہو تے ہیں؟


سوال

نبی اور رسول کون ہو تے ہیں؟

جواب

واضح رہےکہ ''نبی'' اور''رسول'' کی وضاحت میں اہل علم کے متعدد اقوال پائے جاتے ہیں،زیادہ راجح یہ ہے کہ ''رسول''اسے کہتے ہیں جو نئی شریعت لے کر آیاہو،اوراس کی دوصورتیں ہیں:

1-ایک تویہ کہ وہ شریعت بالکل ہی نئی ہو،جسے کسی نبی نے ان سے پہلے پیش نہ کیاہو۔2-یایہ کہ اس سے پہلے وہ شریعت آچکی ہو لیکن قوم کے لیے وہ نئی ہو،جیسے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی شریعت ان کے والدحضرت ابراہیم علیہ السلام کی ہی کی شریعت تھی،لیکن قوم ''جرہم''کوحضرت اسماعیل علیہ السلام کے ذریعہ ہی اس کا علم ہوا،گویایہ شریعت اس قوم کے لیے نئی تھی۔

اور''نبی''اسے کہتے ہیں جس پر وحی آتی ہو ،خواہ وہ نئی شریعت لے کرآیاہو یاکسی قدیم شریعت ہی کامبلغ ہو جیسے اکثر انبیاء بنی اسرائیل حضرت موسی علیہ السلام ہی کی شریعت کی تبلیغ کرتے تھے۔

معاني القرآن وإعرابہ للزجاج میں ہے:

"وقال في موضع آخر {وكم أرسلنا من نبي فى الأولين} [الزخرف: 6] وذلك يدل على أنه كان نبيا، فجعله الله مرسلا وهو يدل على قولنا: «وقيل لرسول الله صلى الله عليه وسلم كم المرسلون؟ فقال ثلثمائة وثلاثة عشرة، فقيل وكم الأنبياء؟ فقال مائة ألف وأربعة وعشرون ألفا الجم الغفير» إذا ثبت هذا فنقول: ذكروا في ‌الفرق ‌بين ‌الرسول والنبي أمورا: أحدها: أن الرسول من الأنبياء من جمع إلى المعجزة الكتاب المنزل عليه، والنبي غير الرسول من لم ينزل عليه كتاب، وإنما أمر أن يدعو إلى كتاب من قبله والثاني: أن من كان صاحب المعجزة وصاحب الكتاب ونسخ شرع من قبله فهو الرسول، ومن لم يكن مستجمعا لهذه الخصال فهو النبي غير الرسول، وهؤلاء يلزمهم أن لا يجعلوا إسحق ويعقوب وأيوب ويونس وهرون وداود وسليمان رسلا لأنهم ما جاءوا بكتاب ناسخ والثالث: أن من جاءه الملك ظاهرا وأمره بدعوة الخلق فهو الرسول، ومن لم يكن كذلك بل رأى في النوم كونه رسولا، أو أخبره أحد من الرسال بأنه رسول الله، فهو النبي الذي لا يكون رسولا وهذا هو الأولى."

(معاني القرآن وإعرابه للزجاج، ج:3، ص:434، ط: عالم الكتب - بيروت)

تفسير الماوردي میں ہے:

"{من رسول ولا نبي … } فيه قولان: أحدهما: أن الرسول والنبي واحد، ولا فرق بين الرسول والنبي، وإنما جمع بينهما لأن الأنبياء تخص البشر، والرسل تعم الملائكة والبشر. والقول الثاني: أنهما مختلفان ، وأن الرسول أعلى منزلة من النبي. واختلف قائل هذا في الفرق بين الرسول والنبي على ثلاثة أقاويل: أحدها: أن الرسول هو الذي تتنزل عليه الملائكة بالوحي ، والنبي يوحى إليه في نومه. والثاني: أن الرسول هو المبعوث إلى أمة ، والنبي هو المحدث الذي لا يبعث إلى أمة ، قاله قطرب. والثالث: أن الرسول هو المبتدىء بوضع الشرائع والأحكام ، والنبي هو الذي يحفظ شريعة الله ، قاله الجاحظ."

(تفسير الماوردي، ج:4، ص:35، ط: دار الكتب العلمية)

شیخ الاسلام علامہ شبیراحمدعثمانی رحمہ اللہ ''نبی اور''رسول''کافرق کرتے ہوئے''تفسیرعثمانی''میں لکھتے ہیں:

''جس آدمی کواللہ کی طرف سے وحی آئے وہ ''نبی''ہے ،انبیاء میں سے جن کو خصوصی امتیازحاصل ہو، یعنی مکذبین کے مقابلہ پر جداگانہ امت کی طرف مبعوث ہوں یانئی کتاب اورمستقل شریعت رکھتے ہوں،وہ''رسول نبی''یانبی رسول''کہلاتے ہیں ۔شرعیات میں جزئی تصرف مثلاً کسی عام کی تخصیص یامطلق کی تقییدوغیرہ رسول کے ساتھ خاص نہیں ،عام انبیاء بھی کرسکتے ہیں ۔باقی غیرانبیاء پررسول یامرسل کااطلاق جیساکہ قرآن کے بعض مواضع میں پایاجاتاہے  وہ اس معنی مصطلح کے اعتبارسے نہیں ۔وہاں دوسری حیثیات معتبرہیں۔(تفسیرعثمانی،2/491۔ معارف القرآن،6/42)

معارف القرآن  مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ  میں ہے:

’’ان دونوں  میں  عموم و خصوص من وجہ کی نسبت ہے، ’’رسول‘‘ وہ ہے جو مخاطبین کو شریعتِ جدیدہ پہنچائے، خواہ وہ شریعت خود اس رسول کے اعتبار سے بھی جدید ہو جیسے تورات وغیرہ یا صرف ان کی امت کے اعتبار سے جدید ہو جیسے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی شریعت، وہ دراصل حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قدیم شریعت ہی تھی، لیکن ’’قوم جرہم‘‘ جن کی طرف ان کو مبعوث فرمایا تھا، ان کو اس شریعت کا علم پہلے سے نہ تھا، حضرت اسماعیل علیہ السلام ہی کے ذریعہ ہوا۔ اس معنی کے اعتبار سے رسول کے لیے نبی ہونا ضروری نہیں، جیسے فرشتے کہ وہ رسول تو ہیں مگر نبی نہیں ہیں، یا جیسے حضرت عیسی علیہ السلام کے فرستادہ قاصد جن کو آیتِ قرآن(( اِذْ جَآءَهَا الْمُرْسَلُوْنَ))[سورة یٰس :13]میں رسول کہا گیا ہے، حال آں کہ وہ انبیاء نہیں تھے۔
اور نبی وہ ہے جو صاحبِ وحی ہو خواہ شریعتِ جدیدہ کی تبلیغ کرے یا شریعتِ قدیمہ کی، جیسے اکثر انبیاءِ بنی اسرائیل شریعتِ موسویہ  کی تبلیغ کرتے تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ایک اعتبار سے لفظِ رسول نبی سے عام ہے اور دوسرے اعتبار سے لفظِ نبی بہ نسبت رسول کے عام ہے، جس جگہ یہ دونوں لفظ ایک ساتھ استعمال کیےگئے جیسا کہ  سورۃ مریم میں( رَسُوْلاً نَّبِیًّا)[آيت 54]آیا ہے، وہاں تو کوئی اشکال نہیں کہ خاص اور عام دونوں جمع ہو سکتے ہیں، کوئی تضاد نہیں، لیکن جس جگہ یہ دو لفظ باہم متقابل آئے ہیں جیسے (وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ وَّلَا نَبِيٍّ )[سورة الحج :52]میں تو اس جگہ  مقام کے قرینہ کی وجہ سے  لفظِ ِنبی کو خاص اس شخص کے معنی میں لیا جائے گا جو شریعتِ سابقہ کی تبلیغ کرتا ہے۔‘‘

( معارف القرآن،زیرعنوان:فائدہ از بیان القرآن رسول اورنبی کی تعریف میں فرق اورباہمی نسبت، ، 6/42، سورۂ مریم، ط: مکتبہ معارف القرآن)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144506102266

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں