بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1444ھ 03 دسمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

تراویح و جنازے میں نابالغ کی اقتداء کا حکم


سوال

اگر کوئی بالغ شخص کسی نابالغ حافظِ قرآن کی اقتداء میں تراویح کی نماز پڑھ لے تو کیا اس کو وہ نماز لوٹانا پڑے گی؟ یا پھر نماز ہوجائے گی؟ یا پھر یہ مسئلہ اولی اور غیر اولی  کاہے؟ اسی طرح نابالغ امام کا جنازے کی نماز پڑھانا کیسا ہے؟

جواب

اگر کوئی بالغ شخص نابالغ بچے کی اقتداء میں تراویح کی نماز پڑھ لے تو اس کی نماز ہی نہیں ہوگی، چوں کہ تراویح کا وقت عشاء کے بعد سے فجر سے پہلے تک ہے، اور اس کی قضا نہیں ہے، اس لیےاگر وقت باقی ہو تو اس کو لوٹایا جائے گا ورنہ  جو  تراویح  نابالغ کی اقتدا میں پڑھ لی ہو  اس پر توبہ استغفار کرے، اس کی قضا لازم نہیں ہے، اور آئندہ  نابالغ کی اقتدا  میں تراویح نہ پڑھے۔نیز جنازے میں بھی نابالغ کی اقتداء جائز نہیں ہے، تاہم اس کا اعادہ لازم نہیں ہے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وإمامة ‌الصبي المراهق لصبيان مثله يجوز. كذا في الخلاصة وعلى قول أئمة بلخ يصح الاقتداء بالصبيان في التراويح والسنن المطلقة. كذا في فتاوى قاضي خان المختار أنه لا يجوز في الصلوات كلها. كذا في الهداية وهو الأصح. هكذا في المحيط وهو قول العامة وهو ظاهر الرواية. هكذا في البحر الرائق."

(كتاب الصلاة، الباب الخامس في الإمامة ،الفصل الثالث في بيان من يصلح إماما لغيره،1/ 85، ط: رشيدية)

فتاوی شامی میں ہے:

"(ولا يصح اقتداء رجل بامرأة) وخنثى (وصبي مطلقا) ولو في جنازة.

ومن هذا يظهر أنه لا تصح إمامته في الجنازة أيضا وإن قلنا بصحة صلاته وسقوط الواجب بها عن المكلفين لأن الإمامة للبالغين من شروط صحتها البلوغ، هذا ما ظهر لي في تقرير هذا المحل، فاغتنمه فإنك لا تظفر به في غير هذا الكتاب، والحمد لله الملك الوهاب."

(كتاب الصلاة، باب الإمامة، 1/ 576، 577، ط: سعيد)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144404100929

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں