بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ذو القعدة 1445ھ 24 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

نابالغ کے مسنون اعتکاف کاحکم


سوال

نابالغ لڑکی یالڑکااگررمضان کے روزہ نہ رکھے،لیکن مسنون اعتکاف میں بیٹھناچاہے،توبیٹھ سکتے ہیں؟

جواب

واضح رہےکہ مسنون  اعتکاف(رمضان کے آخری عشرہ کےاعتکاف ) کے لیےمعتکف کا عاقل ہوناضروری ہے،بالغ نہیں؛لہذانابالغ اورنابالغہ رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف کرسکتے ہیں،تاہم اس مسنون اعتکاف کے لیے روزہ رکھناضروری ہے،اگرروزہ رکھے بغیرکوئی مسنون اعتکاف میں بیٹھے گا،تووہ اعتکاف نفل شمارہوگا،مسنون نہیں۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"...أما ما يرجع إلى المعتكف فمنها: الإسلام والعقل والطهارة عن الجنابة والحيض والنفاس، وإنها شرط الجواز في نوعي ‌الاعتكاف الواجب والتطوع جميعا... وأما البلوغ فليس بشرط لصحة ‌الاعتكاف فيصح من الصبي العاقل؛ لأنه من أهل العبادة، كما يصح منه صوم التطوع."

(كتاب الإعتكاف،فصل شرائط الإعتكاف،١٠٨/٢،ط:دارالكتب العلمية)

فتاوی شامی میں ہے:

"قلت: ومقتضى ذلك أن الصوم شرط أيضا في ‌الاعتكاف المسنون لأنه مقدر بالعشر الأخير حتى لو اعتكفه بلا صوم لمرض أو سفر، ينبغي أن لا يصح عنه بل يكون نفلا فلا تحصل به إقامة سنة الكفاية ويؤيده قول الكنز سن لبث في مسجد بصوم ونية فإنه لا يمكن حمله على المنذور لتصريحه بالسنية ولا على التطوع لقوله بعده وأقله نفلا ساعة فتعين حمله على المسنون سنة مؤكدة، فيدل على اشتراط الصوم فيه."

(كتاب الصوم،باب الإعتكاف،٤٤٢/٢،ط:سعيد)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144409101617

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں