بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 شوال 1445ھ 25 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

اچھا نام رکھنے کا مشورہ /عمر نام رکھنے کا حکم


سوال

مجھے اللہ تعالیٰ نے بیٹے کی نعمت سے نوازا ہے، پیدائش 21 دسمبر رات 9:39  کو ہوئی ہے، میں نے "عمر" نام رکھنا سوچا ہے، باقی آپ  پیدائش کی تاریخ کے حساب سے یا کوئی اور نسبت(حروف تہجی وغیرہ) سےنام تجویز فرمائیں۔

جواب

واضح رہے کہ بے معنی  یا نامناسب معنی پر مشتمل نام رکھنے  سے  گریز  کرنا  چاہیے،  حروف اور تاریخ  کے اعتبار سے ناموں کے انتخاب کرنے کی کوئی اصل نہیں ہے،البتہ "عمر " نام جو آپ نے سوچا ہے یہ ایک جلیل القدر صحابی کا نام ہے، لہذا یہ نام رکھنا زیادہ بہتر وباعثِ برکت ہے، تاہم اس سلسلے  میں جامعہ کے  ویب سائٹ پر اسلامی نام کے عنوان کے تحت اچھے ناموں کا ذخیرہ موجود ہے، اس سے استفادہ کیا جاسکتا ہے۔

لنک ملاحظہ ہو۔اسلامی نام/جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن https://www.banuri.edu.pk/islamic-name

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل میں ہے:

"حدثنا عبد الله قثنا صالح بن عبد الله الترمذي قثنا حماد بن زيد، عن عاصم بن أبي النجود، عن زر بن حبيش، عن أبي جحيفة قال: سمعت عليا يقول: ألا أخبركم بخير هذه الأمة بعد نبيها؟ أبو بكر، ثم قال: ألا أخبركم بخير هذه الأمة بعد أبي بكر؟ عمر."

‌‌(سئل عن فضائل أبي بكر الصديق رحمة الله عليه ورضوانه، ج:1، ص:76، ط:مؤسسة الرسالة)

فتاویٰ عالمگیریہ میں ہے:

"وفي الفتاوى التسمية باسم لم يذكره الله تعالى في عباده ولا ذكره رسول الله صلى الله عليه وسلم ولا استعمله المسلمون تكلموا فيه والأولى أن لا يفعل كذا في المحيط."

(کتاب الکراهیة، الباب الثاني والعشرون في تسمية الأولاد وكناهم والعقيقة، ج:5، ص:362، ط:دار الفکر بيروت)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144506101363

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں