بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 شوال 1441ھ- 31 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

کیا ناف کے نیچے کا جسم ناپاک ہوتا ہے؟


سوال

 میں پاکی اور ناپاکی کے مسئلے سے بہت پریشان رہتا ہوں، اور مجھے کوئی ایسا شحص نہیں ملتا جو میری طرح کی سوچ رکھتا ہو طہارت کے مسئلے میں ۔ گزارش یہ ہے کہ میں غسل کرنے کے بعد بھی اس بات پہ یقین کرتا ہوں کہ ناف کے نیچے جسم ناپاک ہوتا ہے، یعنی کہ شرم گاہ اور پچھلی شرم گاہ نیز کمر کا نیچے والا حصہ بھی اور میں اپنی ٹانگوں کو ہاتھ لگانے سے بھی کراہت رکھتا ہوں، مجھے لگتا ہے کہ غسل میں بھی پانی شرم گاہ سے بہتا ہوا ٹانگوں پہ آتا ہے؛ اس لیے ٹانگیں بھی ناپاک ہیں اور میں جو بھی کپڑا پہنتا ہوں خواہ غسل کے بعد پہنوں مجھے لگتا ہے کپڑا اندر سے شرم گاہ کے ساتھ مس ہوا ہے ۔شلوار پہنتا ہوں اب وہ اوپر سے اگلی اور پچھلی شرم گاہ کو مس کرتی ہے، اب جب میں شلوار اتاروں گا تو شرم گاہ سے مس کپڑا میری ٹانگوں پہ مس کرے گا، اتارتے وقت تو میری ٹانگیں اور پاؤں بھی ناپاک ہو جائیں گے ۔ اور یہ سوچ رہتی ہے ناف کے نیچے پاؤں تک جہاں بھی ہاتھ لگ جائے مجھے لگتا ہے ہاتھ ناپاک ہو گیا، اور میں دن میں 1000 مرتبہ 3 کلمے پڑھ کے ہاتھ دھوتا ہوں، وسوسہ اتنا بڑھ گیا ہے، غسل کے بعد بھی ناف کے نیچے کا حصہ پاؤں تک ناپاک سمجھتا ہوں۔ 

میرے ارد گرد کوئی بھی میری طرح نہیں کرتا، زندگی مشکل سی لگنے لگی ہے، میری مدد فرمائیں ایک اسلامی بھائی سے سنا تھا ناف کے نیچے کا جسم ناپاک ہوتا ہے، تب سے میں اس وسوسے میں مبتلا ہوں اور اب سمجھ سے باہر ہو گیا ہے؛ کیوں کہ کوئی بھی ایسا کرتے نہیں دیکھا، مجھے راہ نمائی فرمائیں  پاکی ناپاکی پر اور جسم میں غسل کے بعد کون سا حصہ ناپاک ہے اور شرم گاہ کو مس کرنے والا کپڑا اندر سے ناپاک ہو جاتا ہے؟

جواب

مذکورہ اسلامی بھائی کی یہ بات کہ ’’ناف کے نیچے کا جسم ناپاک ہوتا ہے‘‘  مطلقاً یوں کہنا شرعی اعتبار سے بالکل بے اصل اور جاہلانہ بات ہے، جنابت وغیرہ کے بعد جب کوئی مرد و عورت غسل کرلے اور جسم پر کوئی ظاہری نجاست نہ لگی ہو تو اس کا پورا بدن پاک ہوجاتا ہے، جسم یا کپڑا تب ناپاک ہوتاہے جب اس پر کوئی ناپاکی (پیشاب، پاخانہ، منی، مذی، خون وغیرہ) یقینی طور پر لگی ہو۔ صرف ستر سے چھونے سے کپڑا ناپاک نہیں ہوتا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور قدیم زمانے میں بزرگ بعض اوقات ڈھیلے اور پتھر سے استنجا کرتے تھے، ہر جگہ اور ہر وقت پانی میسر نہیں ہوتا تھا،  اس بات کو ذہن میں رکھیے کہ جب ان مقدس نفوس نے انہیں کپڑوں میں عبادات انجام دیں تو  ہمارا طہارت کے سلسلے میں بے جا شدت کرنا قطعاً غلط ہے، جس کا نہ تو شریعت نے ہمیں مکلف بنایا ہے، اور نہ ہی شریعت میں یہ پسندیدہ ہے۔

سائل پر لازم ہے کہ اس وسوسہ سے دور رہے اور عافیت والی زندگی گزارے اور وسوسوں کو اپنے قریب بھی آنے نہ دے، وسوسے کا ایک ہی علاج ہے کہ اس کی طرف توجہ نہ دے۔ فقط واللہ اعلم

مزید تفصیل کے لیے درج ذیل لنک پر فتویٰ ملاحظہ کیجیے:

پاکی ناپاکی سے متعلق وسوسے


فتوی نمبر : 144107200956

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے