بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 محرم 1446ھ 25 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

نا مناسب نام تبدیل کرنے سے بچی کی اچھی عادتین نہیں بدل جاتیں


سوال

بچی کا نام تبدیل کرنا ہے، مطلب صحیح نہیں آرہا، "مرحا" نام ہے، کچھ چیزیں نیگیٹو (منفی) ہیں بچی میں، باقی بہت پوزیٹو (مثبت) ہیں، تو پوچھنا یہ ہے کہ نام تبدیل کرنے سے بچی کی اچھائیاں، اچھی شخصیت، اچھی  عادتیں تو بدل نہیں جائیں گی ؟

جواب

مختلف روایات میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نامناسب معانی والے ناموں کو تبدیل کر کے اچھے معانی والے نام رکھنا ثابت ہے، چنانچہ سنن ابی داؤد میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے، عاصیہ، نام والی عورت کا نام بدل دیا اور فرمایا کہ تو" جمیلہ" ہے۔ (عاصیہ کے معنی نافرمانی کرنے والی اور جمیلہ کا معنی خوب صورت ہے)۔

اسی طرح ابو داؤد شریف ہی میں حضرت محمد بن عمرو بن عطاء سے روایت ہے کہ حضرت زینب   بنت ابوسلمہ رضی اللہ عنہا نے ان سے پوچھا کہ تم نے اپنی بیٹی کا کیا نام رکھا؟ انہوں نے کہا کہ میں نے اس کا نام برہ رکھا ہے۔ زینب کہنے لگیں کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے اس نام سے منع فرمایا ہے میرا نام "برہ"  رکھا گیا تھا تو حضور اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے آپ کو پاکباز نہ قرار دو تم میں سے جو نیک بخت ہیں ان کو اللہ ہی جانتا ہے تو انہوں نے فرمایا کہ پھر ہم کیا نام رکھیں؟ فرمایا کہ اس کا نام زینب رکھو۔ (برہ کا معنی نیک ہے)۔

لہذا آپ اپنی بچی کا اچھا نام تجویز کریں،صحابیات کے نام پر اپنی بچی کا نام رکھنا برکت کا باعث ہے۔مرحا نام رکھنا درست نہیں، اس  لیے اس کو بدلنا بھی درست ہے۔  ہماری ویب سائٹ پر اردو حروفِ تہجی کے اعتبار سے لڑکوں اور لڑکیوں کے نام کی فہرست موجود ہے،  درج ذیل لنک ملاحظہ کیجیے:

اسلامی نام

باقی بچی میں اچھی عادات اور صفات موجود ہیں تو نامناسب  نام تبدیل کرکے اچھا نام رکھنے  کی وجہ سے وہ عادات تبدیل نہیں ہوں گی، ہاں تربیت  پر توجہ نہ  دینے کی وجہ سے بچوں کی عادات خراب ہوسکتی ہیں۔

سنن ابی داؤد میں ہے:

"4952 - حدثنا أحمد بن حنبل ومسدد، قالا: حدثنا يحيى، عن عبيد الله، عن نافع عن ابن عمر: أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم - غير اسم عاصية، وقال: " أنت جميلة"

4953 - حدثنا عيسى بن حماد، أخبرنا الليث، عن يزيد بن أبي حبيب، عن محمد بن إسحاق، عن محمد بن. عمرو بن عطاء أن زينب بنت أبي سلمة سألته: ما سميت ابنتك؟ قال: سميتها برة، فقالت: إن رسول الله -صلى الله عليه وسلم - نهى عن هذا الاسم، سميت برة، فقال النبي- صلى الله عليه وسلم -: " لا تزكوا أنفسكم، الله أعلم بأهل البر منكم" فقال: ما نسميها؟ فقال: "سموها زينب."

(كتاب الأدب، باب في تغيير الاسم القبيح، 7/ 307 ط: دار الرسالة العالمية)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144502102012

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں