بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

نامحرم سے بات چیت کرنا


سوال

میری کزن کی امی فوت ہو گئی  ہیں ،گھر میں وہ بڑی ہے اس کے بہن بھائی  چھوٹے ہیں،اس کی والدہ کے فوت ہونے کے بعد وہ اکیلا محسوس کرتی ہیں،  وہ مجھے پسند کرتی ہیں،لیکن چو نکہ وہ میرے لیے نا محرم ہیں،اس لیے میں بات کرنے سے کتراتا ہوں۔ کیا مجھے اسے حوصلہ دینے کے لیے بات کر لینی چاہیے ۔ اور اگر نہیں تو کس طرح میں انکار کروں کہ اس کا دل نہ دکھے؟

جواب

واضح رہے کہ مرد کے لیے کسی بھی نامحرم لڑکی  سے بلاضرروت گفتگو یا بے تکلفی کرنا جائز نہیں،نیز یہ عمل سخت فتنہ کاموجب ہے،اس سلسلے میں شرعی حکم یہ ہے کہ اگرکسی نامحرم لڑکی سے بات چیت کی ضرورت پیش بھی آئے توبقدرِ ضرورت بات  چیت کی جائے،لہجے میں پھر بھی  شدت ہونی چاہیے؛ لہذا صورتِ مسئولہ میں آپ کے لیے اپنی کزن سے بلاضرورت گفتگو کرنا جائز نہیں، یہ کئی مفاسد پر مشتمل ہے، اگر کبھی بات چیت کی ضرورت پیش بھی آئے تو لہجے میں شدت کے ساتھ صرف ضرورت کے بقدر بات کی جائے،نیز انہیں بتلادیا جائے کہ  چوں کہ غیرمحرم سے  بلاضرورت بات چیت شرعاًجائز نہیں اس لیے میں بلاضرورت آپ سے بات چیت نہیں کرسکتا، یہ عمل گناہ کا باعث ہے، اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتے ہوئے کسی کی دلجوئی کرنا یہ شیطان کا حکم ہے۔ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتے ہوئے کبھی راحت حاصل نہیں ہوسکتی۔

فتاوی شامی میں ہے:

"فإنا نجيز الكلام مع النساء الأجانب ومحاورتهن عند الحاجة إلى ذلك، ولانجيز لهن رفع أصواتهن ولا تمطيطها ولا تليينها وتقطيعها؛ لما في ذلك من استمالة الرجال إليهن، وتحريك الشهوات منهم، ومن هذا لم يجز أن تؤذن المرأة."

(کتاب الصلاۃ، باب شروط الصلاۃ ،ج:1،ص؛406، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144403101210

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں