بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 ربیع الاول 1442ھ- 20 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

نامحرم کی تصویر یا ویڈیو دیکھنا


سوال

کیا ڈراموں اور فلموں میں نا محرم عورتوں کو دیکھنا بد نظری شمار ہوگا؟

جواب

واضح رہے کہ جان دار کی تصویر یا ویڈیو بنانا، بنوانا، اپنے پاس رکھنا یا اسے دیکھنا مستقل گناہ ہے، نیز مرد کے لیے  اجنبی عورت کی تصاویر دیکھنا بھی ناجائز ہے، اور اجنبیہ عورت کی نازیبا تصاویر دیکھنا اس سے بھی شدید گناہ اور حرام ہے،  اور اگر اسے دیکھ کر فرحت یا لذت محسوس ہو تو یہ مزید گناہ ہے؛ اس لیے کہ حرام چیز کو دیکھ کر خوش ہونا بھی ناجائز ہے۔

تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے :

"(وَحَرُمَ الِانْتِفَاعُ بِهَا) وَلَوْ لِسَقْيِ دَوَابَّ أَوْ لِطِينٍ أَوْ نَظَرٍ لِلتَّلَهِّي". ( شامي، کِتَابُ الْاَشْرِبَةِ، ٦ / ٤٤٩، ط: دار الفكر)۔

بلوغ القصدوالمرام میں ہے:

"يحرم تصوير حيوان عاقل أو غيره إذا كان كامل الأعضاء، إذا كان يدوم، وكذا إن لم يدم على الراجح كتصويره من نحو قشر بطيخ. ويحرم النظر إليه؛ إذا النظر إلى المحرم لَحرام".

رياض الصالحين (2 / 228):

"باب تحريم النظر إِلَى المرأة الأجنبية والأمرد الحسن لغير حاجة شرعية:

قَالَ الله تَعَالَى: { قُلْ لِلمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أبْصَارِهِمْ } [ النور : 30 ] ، وقال تَعَالَى : { إنَّ السَّمْعَ وَالبَصَرَ والفُؤادَ كُلُّ أُولئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولاً } [ الإسراء : 36 ]، وقال تَعَالَى: { يَعْلَمُ خَائِنةَ الأَعْيُنِ وَمَا تُخْفِي الصُّدُورُ } [ غافر : 19 ] ، وقال تَعَالَى : { إنَّ رَبكَ لَبِالمِرْصَادِ } [ الفجر : 14 ].

وعن أَبي هريرة - رضي الله عنه - : أنَّ النبيَّ صلى الله عليه وسلم، قَالَ : (( كُتِبَ عَلَى ابْن آدَمَ نَصِيبُهُ مِنَ الزِّنَا مُدْرِكُ ذَلِكَ لا مَحَالَةَ : العَيْنَانِ زِنَاهُمَا النَّظَرُ ، وَالأُذُنَانِ زِنَاهُمَا الاسْتِمَاعُ، وَاللِّسَانُ زِناهُ الكَلاَمُ، وَاليَدُ زِنَاهَا البَطْشُ، وَالرِّجْلُ زِنَاهَا الخُطَا، والقَلْبُ يَهْوَى وَيَتَمَنَّى، وَيُصَدِّقُ ذَلِكَ الفَرْجُ أَوْ يُكَذِّبُهُ )). متفق عَلَيْهِ. هَذَا لفظ مسلمٍ".

الدر المختار شرح تنوير الأبصار في فقه مذهب الإمام أبي حنيفة - (6 / 369):

"وفي الشرنبلالية معزيًا للجوهرة: ولايكلم الأجنبية إلا عجوزًا عطست أو سلمت فيشمتها لايردّ السلام عليها وإلا لا انتهى".

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144202201007

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں