بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 جمادى الاخرى 1443ھ 29 جنوری 2022 ء

دارالافتاء

 

شادی شدہ عورت آشنا کے ساتھ بھاگ جائے تو اسے قتل کرنے کا حکم


سوال

کیا شادی شدہ عورت اگر نا محرم کے ساتھ بھاگ جائے تو اس کو قتل کرنا جائز ہے؟

جواب

شادی شدہ عورت کا کسی غیر مرد کے ساتھ بھاگ جانا بہت ہی بے حیائی، اور نہایت قابلِ مذمت فعل اور حرام ہے، البتہ شادی شدہ عورت کے کسی نامحرم کے ساتھ بھاگنے سے اسے قتل کرنا جائز نہیں ہوتا، تاہم عدالت اسے تعزیری سزا دے سکتی ہے۔

ایسی عورت کے بارے میں آگاہی ہوجائے تو اسے آشنا سے فوری طور پر جدا کیا جائے، اور اس کے شوہر کو اختیار ہے، چاہے تو اپنے پاس رکھے، چاہے تو اس حرکت کی وجہ سے اسے طلاق دے کر نکاح سے خارج کردے، بہرصورت جب تک شوہر اسے نکاح سے خارج نہ کرے، اور اس کی عدت نہ گزر جائے، اس وقت تک اس کے لیے کسی دوسرے  شخص سے نکاح کرنا حرام رہے گا۔ اور اس سلسلے میں جتنے لوگ عورت کے ساتھ شامل ہوں، انہیں سچے دل سے توبہ و استغفار کرنا ضروری ہوگا۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144112200300

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں