بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 ذو القعدة 1442ھ 21 جون 2021 ء

دارالافتاء

 

لوگوں سے ناحق لیے ہوئے مال کی مقدار بھی معلوم نہ ہو تو اس کی تلافی کیا صورت ہے؟


سوال

 ایک شخص نے آج سے سات یا آٹھ سال پہلے کمپنی میں کام کرتے ہوئے پندرہ بیس لوگوں سے ناجائز طریقے پر پیسے لیے۔ مثلاً کسی نے کوئی چیز خریدنے کےلیے اسے 100 روپے دیے، جب کہ وہ چیز 50 یا 70 روپے کی تھی، لیکن بقایا پیسے بجائے دینے کے اس نے اپنے پاس رکھے،  اس طرح یہ 15, 20 لوگوں سے باطل طریقے پر پیسے لیتا رہا،  اب یہ شخص وہ پیسے لوٹانا تو چاہتا ہے،  لیکن قیمت کی معیار معلوم نہیں کہ کس کے کتنے پیسے ہیں ۔ تو اب اس کو کس طرح لوٹایا جا سکے؟

جواب

واضح رہے کہ اگر کسی شخص کو اللہ تعالیٰ اپنے سابقہ گناہوں سے توبہ کی توفیق عطا فرمادیں تو یہ سعادت کی بات ہے، اب اسے چاہیے کہ صدقِ دل سے  گناہوں سے توبہ کرے، اللہ تعالیٰ سے معافی مانگے،  گناہ ترک کردے، اور آئندہ کے بارے میں اس طرح نہ کرنے کا عزم کرے، اور اگر کسی کا ناحق مال کھایا ہو تو اس کا مال واپس کرنے کی فکر کرے۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں مذکورہ شخص نے کمپنی میں جن لوگوں کا مال  ناحق طریقہ سے لیا ہے تو  سب سے پہلے اس کے چھٹکارے  کی صورت یہ ہے کہ جس سے مال حاصل کیا گیا تھا اگر وہ زندہ ہے تو اس کو  ورنہ اس کے ورثاء کو خواہ وہ کہیں بھی ہوں پہنچایا جائے، اور اگر  ان کو بتانے میں عار محسوس ہوتی ہو تو یہ بھی گنجائش ہے کہ انہیں کسی اور عنوان سے واپس کردیں، مثلاً صاحبِ حق کا حق ہدیہ اور تحفہ کے نام سے واپس کردے ، یا اس کو کوئی چیز واجب الادا حق کے برابر قیمت والی فروخت کرکے بعد میں اس کو کہہ دےکہ آپ کو یہ چیز  ہدیہ میں دی ہے، غرض نیت تو واجب حق ادا کرنے کی ہو ،لیکن دینے کا عنوان کچھ  بھی ہو،  تو جائزہے، اصل مقصد حق دار کو حق پہنچانا ہے۔ اور اگر وہ رقم متعین طور پر معلوم نہ ہوتو  غالب گمان کرکے اندازہ لگائیں اور اندازے سے کچھ رقم احتیاطاً زیادہ ادا کردیں اور  معافی تلافی کی صورت بھی بن جائےتو بہت اچھا ہے۔

لیکن اگراصل مالک بھی معلوم نہ ہوں اور  نہ ہی ان کے ورثاء معلوم ہوں تو ایسی صورت میں ان کے مال کو اصل مالک کی نیت سے صدقہ کردینا واجب ہے، اور صدقہ میں بھی یہ ضروری ہے مستحق لوگوں کودیا جائے۔

باقی اگر ان کے ساتھ  مال کے علاوہ کوئی زیادتی ہوئی ہو تو دنیا میں اس کی معافی تلافی ہوجانی چاہیے، یہ سب سے بہتر ہے، ورنہ اگر معافی کی صورت نہ ہوسکے تو صاحبِ حق کے لیے مغفرت واستغفار اور ایصالِ ثواب کرکے بھی معافی کی صورت بن سکتی ہے۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144110200882

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں