بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 محرم 1446ھ 24 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

بیوی کو واٹس اپ کے ذریعے تین طلاق دینے کے بعد دوبارہ نکاح کا طریقہ


سوال

1:کیا لاعلمی (یعنی نہ چاہتے ہوئے)  میں واٹس ایپ ایس ایم ایس کے ذریعے طلاق ہو جاتی ہے؟

2: اگر اس سے طلاق ہوجاتی ہے تو کیا حلالہ کروانا جائز ہے؟

3: حلالہ کروانے کے لیے کیا کیا ضروری ہے؟

4: حلالہ میں نکاح کے کتنے ٹائم بعد طلاق دینی ہے؟

5: کیا حلالہ میں مباشرت ضروری ہے؟

6: کیا ضرورت کی بنا پر حلالہ کروانا درست ہے؟

7: حلالہ کے بعد  کیے گئے نکاح سے پیدا ہونے والے بچوں کا کیا حکم ہے؟

8: حلالہ کے بارے میں گھر والوں کو بتانا ضروری ہے؟

جواب

1: بصورتِ مسئولہ اگر واقعتاً  شوہر نے  اپنی بیوی کو واٹس ایپ  میسج پر تین مرتبہ طلاق لکھ کر دےدی ہےتو اس سے بیوی  پر تینوں طلاقیں واقع ہوچکی ہیں، اگرچہ نہ چاہتے ہوئے طلاق دی ہو، بہرصورت نکاح ختم ہوچکا ہے،اس کے بعد رجوع کی یا نکاح کی تجدید کرکے ساتھ  میں رہنے کی گنجائش نہیں ہے۔

2:  جس عورت کو طلاقِ  مغلظہ یعنی تین طلاقیں واقع ہوجائیں، قرآنِ  کریم اور احادیثِ  مقدسہ کی رو سے اس عورت کا اپنے سابقہ شوہر سے دوبارہ نکاح اس وقت تک جائز نہیں جب تک کہ پہلے شوہر کی عدت گزر جانے کے بعد اس عورت کا کسی اور جگہ نکاح نہ ہوجائے اور  دوسرا شوہر حقوقِ زوجیت ادا کرنے کے بعد اس کو طلاق  دے دے یا اس شوہر کا انتقال ہوجائے، پھر اس دوسرے شوہر کی عدت بھی گزر جائے تب سابقہ شوہرسے نکاح جائز ہے۔

لیکن ملحوظ رہے کہ پہلے شوہر کا بنیتِ تحلیل خود اپنی بیوی کا دوسری جگہ نکاح کرانا  یا اس کے نکاح میں کسی طرح بھی شریک ہونا شرعًا سخت ناپسندیدہ اور باعثِ لعنت فعل ہے، لہٰذا اس کی اجازت نہیں ہے۔ ہاں مطلقہ عورت خود یا اس کے سرپرست اس کا کہیں نکاح کرائیں اور مذکورہ بالا تفصیل کے مطابق وہ عورت دوسرے شوہر کے نکاح سے آزاد ہوجائے تو پہلے شوہر کے لیے اس سے نکاح جائز ہوگا، اور اس صورت میں اسے پھر سے تین طلاق کا حق حاصل ہوگا۔

3:تین طلاقوں کے بعد ، دوبارہ پہلے شوہر سے نکاح جائز ہونے کے لیے یہ ضروری ہے کہ عورت کا دوسری جگہ باقاعدہ شرعی نکاح یعنی شرعی گواہوں کی موجودگی میں مہر کے ساتھ نکاح کرنا ضروری ہے،تاہم دوسرے شوہر سے نکاح کرتے وقت ہی طلاق کی شرط لگا کر  نکاح کرنا ،کرانا  گناہ اور اللہ تعالی کی لعنت کا سبب ہے ۔

4/5: قرآنِ مجید اور حدیثِ مبارک کی روشنی میں دوسرے  شوہر کا  حقوق زوجیت ادا کرنا ضروری ہے، اس کے بعد وہ  جس وقت چاہے بیوی  کو طلاق دے دے یا اس شوہر کا انتقال ہوجائے، پھر اس دوسرے شوہر کی عدت بھی گزر جائے تواب سابقہ شوہرسے نکاح جائز ہے۔  اگر دوسرے شوہر نے صرف نکاح کرکے، حقوقِ زوجیت ادا کیے بغیر طلاق دے دی تو یہ عورت پہلے شوہر کے لیے حلال نہیں ہوگی۔

6/7: جیسا کہ نمبر 2 کے تحت یہ بات گزر چکی ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دے اور پھر اس سے دوبارہ نکاح کرنے کے لیے اس کا نکاح  کسی دوسرے شخص سے خود کرائے کہ وہ نکاح کے بعد اسے طلاق دے گا، ایسا کرنا موجبِ لعنت اور ناجائز فعل ہے،  نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ایسا کرنے والے اور جو شخص ایسا کروا رہا ہے دونوں پر لعنت فرمائی ہے۔لہذا اس عمل کو طے کرکے کروانا جائز نہیں ہے، اور  اس کو باقاعدہ پیشہ بنانے والے حدیث کی رو سے لعنت کے مستحق ہیں ۔

البتہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے اور وہ عدت گزرنے کے بعد (پہلے شوہر کی شرکت کے بغیر) کسی دوسری جگہ طلاق دینے کی شرط کے بغیر نکاح کرے، خواہ دل میں نیت ہو، اس کے بعد اس کا شوہر زن و شو کا تعلق قائم کرنے کے بعد اسے طلاق دے دے یا اس کا انتقال ہوجائے تو دوسرے شوہر کی عدت گزرنے کے بعد  یہ عورت پہلے شوہر کے لیے حلال ہوگی،  اور پہلے شوہر سے نکاح کے بعد بچے حلال ہی ہوں گے۔

8۔  جب پہلے شوہر کے لیے تحلیل کی نیت سے اپنی بیوی کا دوسری جگہ نکاح کروانا ہی جائز نہیں ہے تو گھر والوں کو بتانے کا سوال ہی درست نہیں ہے۔ ہاں مطلقہ عورت اپنے گھر والوں کو بتاکر دوسری جگہ نکاح کرسکتی ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(قوله: كتب الطلاق إلخ) قال في الهندية: الكتابة على نوعين: مرسومة وغير مرسومة،وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو."

(مطلب في الطلاق بالکتابة، ج:3، ص:246، ط:ایچ ایم سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144301200065

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں