بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 ذو الحجة 1445ھ 12 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

این جی او کی ملازمت کا حکم


سوال

این، جی، او کی نوکری کرنا NGO کی نوکری کرنا کیسا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ کسی بھی   این جی او کے ساتھ  کام کرنے کے جائز و ناجائز ہونے کا مدار   اس بات پر ہے کہ وہ این جی او اپنے ملازم سے کیا کام لیتی ہے؟ اور اس این جی او کے اغراض و مقاصد کیا ہیں؟  لہذا: 

 جس "این جی او"میں ملازم سے  خلافِ شریعت کام نہ لیا جاتا ہو اور اس این جی او کے پسِ پردہ مقاصد اسلام کے خلاف نہ ہوں یعنی ادیان باطلہ کی تبلیغ وتعلیم کے ذریعہ  مسلمانوں میں بے حیائی اور فحاشی کی اشاعت اور ان کے ایمان پر ڈاکہ ڈالنا مقصد نہ  ہو   تو اس میں نوکری کرنا جائز ہے، لیکن جس این جی او میں ملازم سے خلافِ شرع (ناجائز)  کام لیا جاتا ہو یا اس این جی او کے مقاصد خلافِ شریعت ہوں تو اس این جی او میں ملازمت کرنا جائز نہیں۔  

تفسیر ابن کثیر میں ہے :

"وقوله تعالى:وتعاونوا على البر والتقوى ولا ‌تعاونوا ‌على الإثم والعدوان يأمر تعالى عباده المؤمنين بالمعاونة على فعل الخيرات وهو البر، وترك المنكرات وهو التقوى وينهاهم عن التناصر على الباطل والتعاون على المآثم والمحارم".

(ج:3،ص:10،دارالکتب العلمیۃ)

خلاصۃ الفتاوٰی میں ہے :

"المسلم إذا آجر نفسه من الكافر ليخدمه جاز ويكره ،قال الفضلي:لا يجوز في الخدمة وما فيه إضلال".

( کتاب الاجارات،ج:3،ص:149،رشیدیہ)

فتح الباری میں ہے:

"أورد فيه حديث خباب وهو إذ ذاك مسلم في عمله للعاص بن وائل وهو مشرك وكان ذلك بمكة وهي إذ ذاك دار حرب واطلع النبي صلى الله عليه وسلم على ذلك وأقره ولم يجزم المصنف بالحكم لاحتمال أن يكون الجواز مقيدا بالضرورة أو أن جواز ذلك كان قبل الإذن في قتال المشركين ومنابذتهم وقبل الأمر بعدم إذلال المؤمن نفسه وقال المهلب: كره أهل العلم ذلك إلا لضرورة بشرطين: أحدهما أن يكون عمله فيما يحل للمسلم فعله والآخر أن لا يعينه على ما يعود ضرره على المسلمين وقال بن المنير: استقرت المذاهب على أن الصناع في حوانيتهم يجوز لهم العمل لأهل الذمة ولا يعد ذلك من الذلة بخلاف أن يخدمه في منزله وبطريق التبعية له والله أعلم."

(باب ہل یؤاجر الرجل نفسہ من مشرک فی ارض الحرب،ج:4،ص:452،دارالمعرفۃ)

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144502101135

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں