بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

23 ربیع الثانی 1443ھ 29 نومبر 2021 ء

دارالافتاء

 

مضاربت میں فراڈ ہونے کی صورت میں نفع اور کمیشن کا حکم


سوال

پاکستان میں کئی سال سے لے کر  2013 کے تقریبًا وسط تک کئی مضاربہ کمپنیاں اپنا ہوائی کاروبار (بعد میں وقت کے ساتھ  ساتھ یہ بات واضح ہوتی چلی گئی کہ ان کمپنیوں کا کوئی حقیقی کاروبار وغیرہ نہیں تھا) کرتی رہی تھیں۔ لوگوں سے رقوم جمع کرتے رہتے اور ہر ماہ کے بعد ان ہی پیسوں سے کبھی کم اور کبھی زیادہ پرافٹ دے دیا کرتے تھے۔ کافی لوگ ان کے جھانسے میں آ کر اپنی جمع پونجی گنوا بیٹھے۔ بعض لوگ دوسروں کو بھی ترغیب دے کر ان کمپنیوں میں رقمیں لگواتے تھے اور ہر ماہ ان کو ملنے والے پرافٹ سے کمیشن منہا کر لیا کرتے تھے، ان کو بتائے بغیر۔ پوچھنا یہ ہے کہ:

1. کیا ایسی مضاربہ کمپنیوں کا پرافٹ جائز تھا؟

2. جو لوگ دوسروں کے پرافٹ سے ازخود کمیشن کاٹ لیا کرتے تھے، کیا وہ جائز تھا؟ اگر ناجائز تھا تو اس کے ازالے کی کیا صورت ہو؟

جواب

1 . صورتِ  مسئولہ میں  اگر مضاربت میں رقم لگانے کے بعد  معلوم ہوا کہ   مضارب نے اس پیسوں کو کاروبار میں نہیں لگایا تھا، بلکہ  وہ  دھوکا تھا، تو چوں کہ کوئی کاروبار نہیں ہوا تھا، لہذا  کاروبار  کیے بغیر   اس مضاربت سے جو نفع حاصل ہوا تھا وہ جائز نہیں تھا، صرف اپنی جمع کردہ رقم وصول کرنے کی اجازت ہوگی،  اس لیے اس پر   توبہ واستغفار کے   ساتھ   ساتھ اپنے  اصل سرمایہ کی رقم سے زائد   جو نفع وصول کیا ہے اس کو  اصل مستحقین تک پہنچائے اور اگر یہ ممکن  نہ ہو تو ثواب کی نیت کے بغیرفقراء پر  صدقہ کرنا ضروری ہے۔ 

 2 .   واضح رہے کہ کمیشن اس کام پر جائز ہے جو فی نفسہ جائز ہو، کام بھی متعین ہو ،کمیشن ایجنٹ  واقعی کوئی معتد بہ عمل انجام دے  اور کمیشن (اجرت) جانبین کی رضامندی سے بلاکسی ابہام کے متعین ہواور  چوں کہ مذکورہ  معاملے میں یہ شرائط نہیں پائی جارہی ہے؛  اس لیے یہ کمیشن لینا جائز نہیں تھا؛  لہذا اس کمیشن کی رقم کو اصل مالک کو لوٹانا لازم ہے اور اگر مالک کو لوٹانا ممکن نہ ہو تو ثواب کی نیت کے بغیر فقراء پر صدقہ کرنا ضروری ہے۔ 

فتاوی شامی میں ہے:

"(و ركنها الإيجاب والقبول وحكمها) أنواع؛ لأنها (إيداع ابتداء) (قوله: إيداع ابتداء) قال الخير الرملي: سيأتي أن المضارب يملك الإيداع في المطلقة مع ما تقرر أن المودع لايودع، فالمراد في حكم عدم الضمان بالهلاك، وفي أحكام مخصوصة لا في كل حكم فتأمل."

( کتاب المضاربة، ج: ۵ ص : ۶۴۶ ط : دارلفکر )

اعلاء السنن میں ہے:

"قال ابن المنذر: أجمعوا علی أن المسلف إذا شرط علی المستسلف زیادة أو هدیة فأسلف علی ذلك، إن أخذ الزیادة علی ذلک ربا."

( کتاب الحوالۃ باب کل قرض جر منفعۃ جلد ۱۴ ص : ۵۱۳ ط : اِدارۃ القرآن )

فتاوی شامی میں ہے:

"و لو قال اشتر هذه الجارية بألف درهم كان مشورة والشراء للمأمور إلا إذا زاد، على أن أعطيك لأجل شرائك درهما؛ لأن اشتراط الأجر له يدل على الإنابة. وأفاد أنه ليس كل أمر توكيلا بل لا بد مما يفيد كون فعل المأمور بطريق النيابة عن الآمر فليحفظ."

( کتاب الوکالۃ جلد ۵ ص : ۵۰۹ ط : دارالفکر )

وفیه أیضًا: 

"و أما أجرة السمسار والدلال فقال الشارح الزيلعي: إن كانت مشروطة في العقد تضم."

( کتاب البیوع باب المرابحۃ و التولیۃ جلد ۵ ص : ۱۳۶ ط : دارلفکر )

و فیه أیضًا :

"قال في التتارخانية: وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل، وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم. وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه."

( باب الاِجارۃ الفاسدۃ مطلب فی اَجرۃ الدلال جلد ۶ص : ۶۳ ط : دارالفکر )

و فیه أیضًا:

"و الحاصل أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام لايحل له ويتصدق به بنية صاحبه."

( مطلب فیمن ورث مالا حراما جلد ۵ ص : ۹۹ ط : دارلفکر )

فقط و اللہ اَعلم 


فتوی نمبر : 144007200411

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں