بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 شوال 1445ھ 22 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

مطلقا(بغیر کسی تعیین کے)مسجد کے عنوان پر چندہ کا حکم


سوال

مطلقا مسجد کی  تعمیر کے لیے چندہ کیا گیا ہے تو کیا ان پیسوں کو کسی بھی مسجد کی تعمیر میں خرچ کیا جاسکتا ہے یا نہیں؟

جواب

بغیر کسی تعیین کے مطلقامسجد کے عنوان پر جمع کی گئی چندہ کی رقم کسی بھی مسجد میں خرچ کی جاسکتی ہے،لیکن اگر  چندہ دہندہ کی جانب سے کسی مسجد کی تعیین کی گئی ہو کہ فلاں مسجد میں رقم خرچ کی جائے تو اس مسجد کے علاوہ کسی دوسری مسجد میں وہ رقم خرچ نہیں کی جاسکتی۔

فتاوی شامی میں ہے:

"فإن شرائط الواقف معتبرة إذا لم تخالف الشرع وهو مالك، فله أن يجعل ماله حيث شاء ما لم يكن معصية وله أن يخص صنفا من الفقراء ولو كان الوضع في كلهم قربة."

(کتاب الوقف ،ج4 ص،343 ط:سعید)

وفیہ ایضا:

"على أنهم صرحوا بأن مراعاة غرض الواقفين واجبة، وصرح الأصوليون بأن العرف يصلح مخصصًا."

(کتاب الوقف، مطلب مراعاۃ غرض الواقفین، ج 4، ص445 ط: سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144506101784

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں