بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 ذو الحجة 1445ھ 16 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

معتزلہ کا جہنمی ہونا اور مخلد فی النار ہونے کا حکم


سوال

کیا معتزلہ کا جہنمی ہونا اور مخلد فی النار ہونا ثابت ہے ؟ وضاحت فرمادیں۔

جواب

 معتزلہ ایک گمراہ فرقہ ہے اس کا وجود حضرت حسن بصری رحمہ اللہ کے زمانے میں ہوا، ”معتزلہ“ ؛ اعتزال سے اسم فاعل ہے، اعتزال کے معنی ہیں الگ ہونا ، اہل سنت والجماعت کے عقائد سے الگ ہو جانے کی بنا پر یہ فرقہ ”معتزلہ“ کہلایا،اس کا بانی واصل بن عطاء ہے، معتزلہ کے مذہب کی بنیاد عقل پر ہے وہ خود کو اصحاب العدل والتوحید کہتے ہیں اور نقل پر عقل کو ترجیح دیتے ہیں ، عقل کے خلاف قطعیات میں تاویلات کرتے ہیں اور ظنیات کا انکار کرتے ہیں۔

معتزلہ کے بارے میں اکابر میں سے کسی نے تکفیر کا قول  نقل نہیں کیا ہے، لہذا ان کا  مخلد فی النار  ہونا  ثابت نہیں  ،کیوں کہ مخلد فی النار وہی ہوں گے جو دنیا سے کفر کے حالت میں گئے ہوں ، البتہ معتزلہ میں جو عالم کے قدیم ہونے کا یا اس کے علاوہ کوئی ایسا عقیدہ رکھتا ہو جس سے کفر لازم آتا ہو تو پھر وہ کافر ہوکر مخلد فی النار ہوگا۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"وأما المعتزلة فمقتضى الوجه حل مناكحتهم؛ لأن الحق عدم تكفير أهل القبلة، وإن وقع إلزاما في المباحث، بخلاف من خالف القواطع المعلومة بالضرورة من الدين مثل القائل بقدم العالم ونفي العلم بالجزئيات على ما صرح به المحققون وأقول: وكذا القول بالإيجاب بالذات ونفي الاختيار. اهـ. وقوله: وإن وقع إلزاما في المباحث معناه، وإن وقع التصريح بكفر المعتزلة ونحوهم عند البحث معهم في رد مذهبهم بأنه كفر أي يلزم من قولهم بكذا الكفر، ولا يقتضي ذلك كفرهم؛ لأن لازم المذهب ليس بمذهبهم وأيضا فإنهم ما قالوا ذلك إلا لشبهة دليل شرعي على زعمهم، وإن أخطئوا فيه."

(‌‌‌‌كتاب النكاح، فصل في المحرمات، ج:1، ص: 45، ط: سعید)

احكام الاحكام شرح عمدة الاحكام میں ہے:

"وقد اختلف الناس في التكفير وسببه، حتى صنف فيه مفردا، والذي يرجع إليه النظر في هذا: أن مآل المذهب: هل هو مذهب أو لا؟ فمن أكفر المبتدعة قال: إن مآل المذهب مذهب فيقول: المجسمة كفار؛ لأنهم عبدوا جسما، وهو غير الله تعالى، فهم عابدون لغير الله، ومن عبد غير الله كفر، ‌ويقول: ‌المعتزلة ‌كفار؛ لأنهم - وإن اعترفوا بأحكام الصفات - فقد أنكروا الصفات ويلزم من إنكار الصفات إنكار أحكامها، ومن أنكر أحكامها فهو كافر. وكذلك المعتزلة تنسب الكفر إلى غيرها بطريق المآل."

(كتاب اللعان، من وصف غيره بالكفر، ج:2، ص:210، ط: مطبعة السنة المحمدية)

شرح العقائد النسفیہ میں ہے:

"ومعظم خلافیاتہ مع الفرق الإسلامیة خصوصاً المعتزلة لأنہم أول فرقة أسّسوا قواعد الخلاف لما ورد بہ ظاہر السنة وجری علیہ جماعة الصحابة رضوان اللہ علیہم أجمعین في باب العقائد وذلک لأن رئیسہم واصل بن عطاء اعتزل عن مجلس الحسن البصری رحمہ اللہ ویقرر ان من ارتکب الکبیرة لیس بموٴمن ولا کافر ویثبت المنزلة بین المنزلتین فقال الحسن قد اعتزل عنّا فسُمّوا المعتزلة وہم سمّوا أنفسہم أصحاب العدل والتوحید......الخ."

(ص:19،20، ط: بشری)

فقط وللہ اعلم


فتوی نمبر : 144411102364

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں