بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو الحجة 1445ھ 20 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

معتكف کے لیے مسجد كے غسل خانوں ميں نہانا


سوال

کیا معتکف مسجد کے اندر جو مسجد کے غسل خانے بنے ہوتے ہیں ان میں نہا سکتا ہے؟

جواب

مستقل وضو خانہ اور غسل خانہ مسجدِ شرعی  کی حدود سے خارج ہوتے ہیں، معتکفین کے لیے شرعی اور طبعی ضرورت کے بغیر وہاں جانا جائز نہیں ہے، لہٰذا اگر غسل فرض ہوجائے تو وہاں جاکر غسل کرنا درست ہوگا، صرف ٹھنڈک کے لیے یا جمعے کے غسل کے لیے جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔

ہمارے  ہاں عرف میں مسجد کے تمام احاطہ کو  ”مسجد“ کہتے ہیں، لیکن حقیقت میں مسجد میں ایک حصہ وہ ہوتا ہے جو شرعی مسجد  اور عین مسجد کہلاتا ہے یہ وہ جگہ ہوتی ہے جو   نماز اور سجدہ کے لیے مقرر کی جاتی ہے، یہ حصہ حدودِ مسجد ہوتا ہے۔ اور ایک احاطہ مسجد اور فناءِ مسجد  ہوتا ہے، یہ وہ جگہ ہوتی ہے  جہاں وضو خانہ ، غسل خانہ ، امام، مؤذن وغیرہ کے کمرے ہوتے ہیں،  اعتکاف میں  معتکف کے لیے شرعی مسجد کی حدود  میں رہنا ضروری ہوتا ہے، بغیر طبعی اور شرعی ضرورت کے  احاطہ مسجد  میں آنے  سے اعتکاف فاسد ہوجائے گا۔

ہاں اگر مسجد کی شرعی حدود میں عارضی غسل خانہ کا انتظام کیا گیا ہو  تو اس میں معتکف غسل واجب کے علاوہ بھی غسل کرسکتا ہے،  لیکن شدید ضرورت کے بغیر اس کے بھی  استعمال کی عادت نہیں بنانی چاہیے۔ اور جہاں مسجد کے آداب اور تقدس کے پامال ہونے کا اندیشہ ہو  وہاں پورٹ ایبل واش روم سے بھی اجتناب کیا جائے۔

عالمگیری میں ہے:

"(وأما مفسداته) فمنها الخروج من المسجد فلا يخرج المعتكف من معتكفه ليلًا ونهارًا إلا بعذر، وإن خرج من غير عذر ساعة فسد اعتكافه في قول أبي حنيفة - رحمه الله تعالى- كذا في المحيط. سواء كان الخروج عامدًا أو ناسيًا، هكذا في فتاوى قاضي خان".

( الفتاوى الهندية (1/ 212)، (الْبَابُ السَّابِعُ فِي الِاعْتِكَافِ)،الناشر: دار الفكر)

البحر الرائق شرح كنز الدقائق  میں ہے:

"وَإِنْ غَسَلَ الْمُعْتَكِفُ رَأْسَهُ فِي الْمَسْجِدِ فَلَا بَأْسَ بِهِ إذَا لَمْ يُلَوَّثْ بِالْمَاءِ الْمُسْتَعْمَلِ فَإِنْ كَانَ بِحَيْثُ يَتَلَوَّثُ الْمَسْجِدُ يُمْنَعُ مِنْهُ؛ لِأَنَّ تَنْظِيفَ الْمَسْجِدِ وَاجِبٌ، وَلَوْ تَوَضَّأَ فِي الْمَسْجِدِ فِي إنَاءٍ فَهُوَ عَلَى هَذَا التَّفْصِيلِ. اهـ.

( باب الإعتكاف، ٢ / ٣٢٧، دار الكتاب الاسلامي)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144209201685

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں