بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 ذو الحجة 1443ھ 03 جولائی 2022 ء

دارالافتاء

 

معتکف کا نہانا کیسا ہے؟


سوال

معتکف کا نہانا کیسا ہے؟

جواب

معتکف پر اگر غسلِ جنابت واجب ہو گیا ہو تو اس کے لیے  معتکف کا مسجد سے نکل کر غسل کرنا جائز بلکہ ضروری ہے ،  البتہ ٹھنڈک کے لیے یا غسل مسنون (جمعہ کی نماز کے لیے غسل)  کی نیت سے جانا معتکف کے لیے جائز نہیں، البتہ یہ تدبیر اختیار کی جاسکتی ہے کہ جب پیشاب / پاخانہ  کا تقاضا ہو تو بول و براز  سے فارغ ہوکر غسل خانے میں دو چار لوٹے بدن پر ڈال لے، جتنی دیر میں وضو ہوتا ہے، اس سے بھی کم وقت میں بدن پر پانی ڈال کر آجائے، لیکن اسے روز کا معمول نہیں بناناچاہیے، جب سخت ضرورت ہو تو ایسا کرلیا جائےاور دوسری صورت یہ ہے کہ مسجد میں رہتے ہوئے کوئی تولیا گیلا کر کے پورے بدن پر پھیر لیا جائے اس سے بھی ٹھنڈک حاصل ہو جائیگی ۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(وحرم عليه) أي على المعتكف اعتكافا واجبا أما النفل فله الخروج .........(الخروج إلا لحاجة الإنسان) طبيعية كبول وغائط وغسل لو احتلم ولا يمكنه الاغتسال في المسجد كذا في النهر."

(کتاب الصوم ، باب الاعتکاف جلد ۲ ص : ۴۴۴ ، ۴۴۵ ط : دار الفکر)

فقط و اللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144309101267

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں