بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1446ھ 15 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

معتکف کا مسجد سے متصل وضو خانے سے ہاتھ یا برتن دھونا


سوال

ہماری مسجد میں صحن سے متصل کچھ اونچائی پر برآمدے میں وضوخانے (استنجاہ خانے علیحدہ ہیں) ہیں۔ کیااحناف کےنزدیک معتکف کیلیۓوہاں پر کھانے سے پہلے ہاتھ یا برتن دھونا ناجائز ہے؟ اور اگر دھو لے تو شریعت کا کیا حکم ہے؟

جواب

صورت مسئولہ میں مذکورہ وضو خانہ سے اگر مسجد کی حدود میں رہتے ہوئے ہاتھ یا برتن دھو  لیے تو اعتکاف فاسد نہیں ہوگا، بصورتِ دیگر اعتکاف فاسد ہوجائے گا۔

فتاوی شامی میں ہے:

"الخروج إلا لحاجة الإنسان) طبيعية كبول وغائط وغسل لو احتلم ولا يمكنه الاغتسال في المسجد كذا في النهر (أو) شرعية كعيد وأذان لو مؤذنا وباب المنارة خارج المسجد."

(ج نمبر ۲، ص نمبر ۴۴۵، ایچ ایم سعید)

فتاوی شامی میں ہے:

"قلت: بل ظاهر البدائع أن الأذان أيضا غير شرط فإنه قال: ولو صعد المنارة لم يفسد بلا خلاف وإن كان بابها خارج المسجد لأنها منه لأنه يمنع فيها من كل ما يمنع فيه من البول ونحوه فأشبه زاوية من زوايا المسجد اهـ لكن ينبغي فيما إذا كان بابها خارج المسجد أن يقيد بما إذا خرج للأذان لأن المنارة وإن كانت من المسجد، لكن خروجه إلى بابها لا للأذان خروج منه بلا عذر."

(ج نمبر ۲، ص نمبر ۴۴۶، ایچ ایم سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144111201680

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں