بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

23 ربیع الثانی 1443ھ 29 نومبر 2021 ء

دارالافتاء

 

معتکف کا جنازے کے لیے مسجد سے نکلنا


سوال

کیا معتکف نماز جنازہ کے لیے  حدود مسجد سے نکل سکتا ہے؟  اور سخت ضرورت ہو تو کیا  بینک جا سکتا ہے جب کہ اس کے بغیر پیسے نہ نکل سکتے ہوں؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں جنازہ  کی نماز میں شرکت کے  لیے مسجد سے نکلنا  معتکف کے  لیے جائز نہیں،  نکلنے  کی صورت میں مسنون اعتکاف فاسد  ہوجائے  گا، اسی طرح  بینک جانے کی بھی اجازت نہیں،    پہلے سے کھانے پینے کا انتظام کرے، اور  اگر   رقم کی شدید ضرورت ہو تو کسی سے قرضہ  لے   لے، اعتکاف سے فارغ ہونے کے بعد اسے قرضہ واپس کردے۔   البتہ اگر  اس  کے  پاس اتنی بھی رقم نہ  ہو  کہ  جس سے سحر و افطار  کا انتظام کرسکے ، اور نہ  متبادل ذریعے  سے سحر و افطار کا انتظام ہو سکتا ہو  ،  تو اس صورت میں بینک سے رقم نکالنے کے  لیے جانے  کی اجازت ہوگی، تاہم مسنون اعتکاف فاسد ہوجائے گا،  ایک دن کے اعتکاف کی قضا  لازم ہوگی، بقیہ  ایام نفلی اعتکاف کر سکتا ہے۔

سنن ابي داؤد  میں ہے:

"حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ - يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ - عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتِ: السُّنَّةُ عَلَى الْمُعْتَكِفِ أَلَّا يَعُودَ مَرِيضًا، وَ لَايَشْهَدَ جِنَازَةً، وَ لَايَمَسَّ امْرَأَةً وَ لَايُبَاشِرَهَا، وَ لَايَخْرُجَ لِحَاجَةٍ إِلَّا لِمَا لَا بُدَّ مِنْهُ، وَلَا اعْتِكَافَ إِلَّا بِصَوْمٍ، وَلَا اعْتِكَافَ إِلَّا فِي مَسْجِدٍ جَامِعٍ."

( سنن أبي داود، كِتَابٌ : الصَّوْمُ، بَابٌ : الْمُعْتَكِفُ يَعُودُ الْمَرِيضَ، ٢ / ٥٨٠، رقم الحديث، ٢٤٧٣)

المبسوط للسرخسی میں ہے:

"(قَالَ): وَلَايَنْبَغِي لِلْمُعْتَكِفِ أَنْ يَخْرُجَ مِنْ الْمَسْجِدِ إلَّا لِجُمُعَةٍ أَوْ غَائِطٍ أَوْ بَوْلٍ أَمَّا الْخُرُوجُ لِلْبَوْلِ وَالْغَائِطِ فَلِحَدِيثِ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَايَخْرُجُ مِنْ مُعْتَكِفِهِ إلَّا لِحَاجَةِ الْإِنْسَانِ»؛ وَلِأَنَّ هَذِهِ الْحَاجَةِ مَعْلُومٌ وُقُوعُهَا فِي زَمَانِ الِاعْتِكَافِ، وَلَايُمْكِنُ قَضَاؤُهَا فِي الْمَسْجِدِ فَالْخُرُوجُ لِأَجْلِهَا صَارَ مُسْتَثْنًى بِطَرِيقِ الْعَادَةِ."

( بَابُ الِاعْتِكَافِ، ٣ / ١١٧، ط: دار المعرفة)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

(وأما مفسداته) فمنها الخروج من المسجد فلا يخرج المعتكف من معتكفه ليلا ونهارا إلا بعذر، وإن خرج من غير عذر ساعة فسد اعتكافه في قول أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - كذا في المحيط. سواء كان الخروج عامدا أو ناسيا هكذا في فتاوى قاضي خان.... ولو خرج لجنازة يفسد اعتكافه، وكذا لصلاتها."

( كتاب الصوم، الباب السابع في الاعتكاف، ١ / ٢١٢، ط: دار الفكر)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144209202365

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں