بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

23 ربیع الثانی 1443ھ 29 نومبر 2021 ء

دارالافتاء

 

معتکف امام کا محراب میں کھڑے ہونے کا حکم


سوال

 کیا مسجد کا منبر حدود مسجد سے باہر ہوتا ہے؟ اگر امام معتکف ہے تو جماعت منبر والے حصے میں کروانی ہے یا ایک صف  پیچھے؟

جواب

منبر اور محراب مسجد کا حصہ ہوتے ہیں اور معتکف محراب  میں داخل ہوسکتا ہے ؛ لہذا امام اگر معتکف تو  وہ  محراب میں بھی جاسکتاہے، لہٰذا اگر مسجد میں امام کا مصلی محراب میں ہو تو اپنے عام معمول کی طرح اس طرح کھڑا ہو کہ اس کے  قدم محراب سے باہر ہو ں اور باقی سجدہ محراب کے اندر ہو،ایک صف پیچھے کھڑے ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ نیز یہ بھی واضح رہے کہ قدم کا باہر رکھنا اس وجہ سے نہیں کہ محراب  مسجد کا حصہ نہیں،  بلکہ اس وجہ سے ہے کہ اگر امام کے  قدم محراب میں ہوں گے تو امام کو باقی مقتدیوں سے مکان میں ایک اختصاص حاصل ہوجائے گا جو کہ شرعًا پسندیدہ نہیں ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(وقيام الإمام في المحراب لا سجوده فيه) وقدماه خارجة؛ لأن العبرة للقدم (مطلقاً) وإن لم يتشبه حال الإمام إن علل بالتشبه وإن بالاشتباه و لا اشتباه فلا اشتباه في نفي الكراهة.

(قوله: إن علل بالتشبه إلخ) قيد للكراهة. وحاصله أنه صرح محمد في الجامع الصغير بالكراهة ولم يفصل؛ فاختلف المشايخ في سببها، فقيل كونه يصير ممتازًا عنهم في المكان؛ لأن المحراب في معنى بيت آخر وذلك صنيع أهل الكتاب، واقتصر عليه في الهداية  واختاره الإمام السرخسي وقال: إنه الأوجه، وقيل: اشتباه حاله على من في يمينه ويساره، فعلى الأول يكره مطلقًا، وعلى الثاني لايكره عند عدم الاشتباه، وأيد الثاني في الفتح بأن امتياز الإمام في المكان مطلوب، و تقدمه واجب وغايته اتفاق الملتين في ذلك، وارتضاه في الحلية وأيده، لكن نازعه في البحر بأن مقتضى ظاهر الرواية الكراهة مطلقًا، وبأن امتياز الإمام المطلوب حاصل بتقدمه بلا وقوف في مكان آخر، ولهذا قال في الولوالجية وغيرها إذا لم يضق المسجد بمن خلف الإمام لا ينبغي له ذلك لأنه يشبه تباين المكانين انتهى. يعني: وحقيقة اختلاف المكان تمنع الجواز فشبهة الاختلاف توجب الكراهة والمحراب وإن كان من المسجد فصورته وهيئته اقتضت شبهة الاختلاف اهـ ملخصاً.
قلت: أي لأن المحراب إنما بني علامة لمحل قيام الإمام ليكون قيامه وسط الصف كما هو السنة، لا لأن يقوم في داخله، فهو وإن كان من بقاع المسجد لكن أشبه مكانا آخر فأورث الكراهة، ولا يخفى حسن هذا الكلام فافهم، لكن تقدم أن التشبه إنما يكره في المذموم وفيما قصد به التشبه لا مطلقا، ولعل هذا من المذموم تأمل. هذا وفي حاشية البحر للرملي: الذي يظهر من كلامهم أنها كراهة تنزيه تأمل اه". 

(کتاب الصلاۃ، باب  ما یفسد الصلاۃ ج نمبر ۱ ص نمبر ۶۴۵،ایچ ایم سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144209202109

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں