بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

متعین نفع کی شرط پر سرمایہ کاری کا حکم


سوال

ایک کمپنی ہے جو انویسٹمنٹ  اکٹھی کرتی ہے اور اسے مختلف کاروبار میں لگا کر نفع کماتی ہے ۔انہوں نے انویسٹمنٹ کے کچھ پیکجز دیے ہیں،  جیسا کہ اگر ہم 20 ہزار انو یسٹ کریں گے تو  وہ پروفٹ  میں سے ہمیں روزانہ 400 دیں گے ۔اگر نقصان ہوتا ہے تو اس دن ہمیں 400 نہیں دیں گے یا اس سے کم دیں گے،  لیکن اگر پروفٹ زیادہ ہوتا ہے  تو  وہ ہمیں 400 ہی دیں گے،  باقی ان کا پروفٹ ہوگا ۔

یہ ہمیں  100 دن تک دیتے رہیں گے ہفتہ اور اتوار کو 400 نہیں دیا کریں گے ۔اسی طرح اگر ہم کسی دوسرے کو اس میں انویسٹ کرواتے ہیں تو ہمیں 3000 بونس ملے گا اور 10 روپے روزانہ ملیں گے ۔کیا یہ جائز ہے؟

جواب

شراکت داری کے صحیح ہونے کی دیگر شرائط میں سے ایک شرط یہ بھی ہے کہ کاروبار میں ہونے والا نفع تمام شرکاء کے  درمیان     حاصل شدہ نفع کے متعین تناسب یعنی فیصد  کے مطابق تقسیم کیا جائے، پس اگر متعین  نفع جیسے 400  روپے روزانہ طے  کیے جائیں تو ایسی شراکت داری  شرعًا  جائز نہیں ہوتی، نیز یہ طے کرنا بھی درست نہیں ہے کہ 400 سے زیادہ جو نفع ہوگا وہ کمپنی کا ہوگا، اسی طرح مزید لوگوں کی  انویسٹمنٹ  شامل کروانے پر اگر ملٹی لیول طرز پر اجرت دی جاتی ہے تو یہ  خرابی مستزاد ہے؛ لہذا صورتِ  مسئولہ میں مذکورہ کمپنی  چوں کہ نفع فیصد کے اعتبار سے نہیں دیتی، بلکہ متعین  نفع   20000  پر  400 روزانہ کی بنیاد پر دیتی ہے، لہذا اس کمپنی میں سرمایہ کاری کرنا جائز نہیں، اور نہ ہی منافع جائز ہے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"أَمَّا شَرِكَةُ الْعُقُودِ فَأَنْوَاعٌ ثَلَاثَةٌ: شَرِكَةٌ بِالْمَالِ، وَشَرِكَةٌ بِالْأَعْمَالِ وَكُلُّ ذَلِكَ عَلَى وَجْهَيْنِ: مُفَاوَضَةٌ وَعِنَانٌ، كَذَا فِي الذَّخِيرَةِ. وَرُكْنُهَا الْإِيجَابُ وَالْقَبُولُ ... وَشَرْطُ جَوَازِ هَذِهِ الشَّرِكَاتِ كَوْنُ الْمَعْقُودِ عَلَيْهِ عَقْدَ الشَّرِكَةِ قَابِلًا لِلْوَكَالَةِ، كَذَا فِي الْمُحِيطِ وَأَنْ يَكُونَ الرِّبْحُ مَعْلُومَ الْقَدْرِ، فَإِنْ كَانَ مَجْهُولًا تَفْسُدُ الشَّرِكَةُ وَأَنْ يَكُونَ الرِّبْحُ جُزْءًا شَائِعًا فِي الْجُمْلَةِ لَا مُعَيَّنًا فَإِنْ عَيَّنَا عَشَرَةً أَوْ مِائَةً أَوْ نَحْوَ ذَلِكَ كَانَتْ الشَّرِكَةُ فَاسِدَةً، كَذَا فِي الْبَدَائِعِ. وَحُكْمُ شَرِكَةِ الْعَقْدِ صَيْرُورَةُ الْمَعْقُودِ عَلَيْهِ وَمَا يُسْتَفَادُ بِهِ مُشْتَرَكًا بَيْنَهُمَا، كَذَا فِي مُحِيطِ السَّرَخْسِيِّ."

( كِتَابُ الشَّرِكَةِ، الْبَابُ الْأَوَّلُ فِي بَيَانِ أَنْوَاعِ الشَّرِكَةِ ، الْفَصْلُ الْأَوَّلُ فِي بَيَانِ أَنْوَاعِ الشَّرِكَةِ، ٢ / ٣٠١ - ٣٠٢، ط: دار الفكر)

 فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144212201607

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں