بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 ذو الحجة 1442ھ 04 اگست 2021 ء

دارالافتاء

 

متبنیٰ کی بیوی سے نکاح کرنا کب جائز ہوا؟


سوال

متبنی کی عورت سے نکاح کرنا زمانہ جاہلیت میں نا‌جائز تھا،  پھر کس سن ہجری میں متبنی کی عورت سے نکاح کرنا جائز ہوا؟

جواب

زمانہ جاہلیت میں یہ بات مشہور تھی کہ جس بچے کو گود لے لیا جائے اور متبنیٰ بنا لیا جائے وہ حقیقی بیٹا بن جاتا ہے اور اہلِ جاہلیت تمام معاملات میں  متبنیٰ  پر حقیقی بیٹے والے اَحکام مرتب کیا کرتے تھے، مثلاً اُس کی بیوی سے شادی کرنا ناجائز سمجھتے تھے وغیرہ تو اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بذریعہ وحی حکم فرمایا کہ جب آپ کے متبنیٰ (حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ)   اپنی بیوی (حضرت اینب بنت جحش رضی اللہ عنہا) کو طلاق دے دیں تو  ان  سے نکاح کر لیں؛ تا کہ جاہلیت کے اس عقیدہ کی اصلاح ہو سکے، اور یہ حکم سن 5 ہجری میں وارد ہوا، جیساکہ مشہور ہے، بعض مؤرخین نے سن 4 ہجری بتایا ہے اور بقول حافظ ابنِ کثیر رحمہ اللہ یہ زیادہ مشہور قول ہے، اور بعض نے سن 3 ہجری۔

واضح رہے کہ متبنیٰ کی بیوی سے نکاح کرنے کو ناجائز سمجھنا اور کہنا، اہلِ جاہلیت کا اپنا  اختراع تھا، شریعت نے اُن کی غلط فہمی کو دور کر کے یہ واضح کر دیا کہ متبنیٰ حقیقی بیٹوں کی طرح نہیں ہوتا، بلکہ  اُس کی بیوی سے نکاح کرنا جائز ہوتا ہے۔

البداية والنهاية(7/ 119):

"وكانت قبله عند مولاه زيد بن حارثة، فلما طلقها تزوجها رسول الله صلى الله عليه وسلم قيل: كان ذلك في سنة ثلاث، وقيل: أربع وهو الأشهر، وقيل: سنة خمس."

تفسير مقاتل بن سليمان (3/ 472):

"ثم قال: {وَما جَعَلَ أَدْعِياءَكُمْ أَبْناءَكُمْ} يعني النبي صلى الله عليه وسلم تبنى زيد بن حارثة اتخذه ولدًا فقال الناس: زيد بن محمد فضرب الله- تعالى- لذلك مثلا للناس فقال: «مَا جَعَلَ اللَّهُ لِرَجُلٍ مِنْ قَلْبَيْنِ فِي جَوْفِهِ ... » «وَما جَعَلَ أَدْعِياءَكُمْ»  فكما لايكون للرجل الواحد قلبان كذلك لايكون دعِيّ الرجل ابنه يعني النبي صلى الله عليه وسلم وزيد بن حارثة بن قرة بن شرحبيل الكلبي، من بني عبدود كان النبي صلى الله عليه وسلم تبناه فى الجاهلية وآخى بينه وبين حمزة ابن عبد المطلب- رضي الله عنهما- في الإسلام فجعل الفقير أخا الغني ليعود عليه.

فلما تزوج النبي صلى الله عليه وسلم زينب بنت جحش وكانت تحت زيد ابن حارثة، قالت اليهود والمنافقون: تزوج محمد «1» امرأة ابنه وهو ينهانا عن ذلك، فنزلت هذه الآية."

مختصر تاريخ دمشق (1/ 249، بترقيم الشاملة آليا):

"وفي سنة ثلاث تزوج النبي صلى الله عليه وسلم زينب بنت جحش، وذلك في سنة خمس في هلال ذي القعدة، وهي يومئذ بنت خمس وثلاثين سنة."

الوافي بالوفيات (15/ 39):

"قال قتادة: تزوجها رسول الله صلى الله عليه وسلم سنة خمس من الهجرة، وقال أبو عبيدة: سنة ثلاث." 

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144202200302

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں