بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 شوال 1445ھ 25 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

مستحق مدرسہ میں زکوۃ دینے کا حکم


سوال

ہمارا اداره ديہات ميں واقع هے ، جہاں پر 70 مقامی طلبہ قرآن پاک کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں ، دو اساتذہ اور ایک معاون اپنی خدمات سر انجام دے رہے ہیں ، ادارے کو تنخواہوں میں اور دیگر اخراجات کی ادا ئیگی میں کافی مشکلات کا سامنا ہے ، مقامی طلبہ کے والدین میں سے 95 فیصد ذریعہ معاش دیہاڑی دار مزدوری ،مزارعۃ ، اور مویشیوں پر ہے ، وہ اپنی آمدنی سے بچوں کی تعلیمی اخراجات مثلاً فیسز وغیرہ یا ادارے سے کسی صورت میں تعاون کرنے سے قاصر ہیں ، اس صورت میں کیا ہم زکوۃ ، فطرانہ وغیرہ کی مد میں چندہ وصول کرکے مستحق طلبہ کے تعلیمی اخراجات ، اساتذہ کرام کی تنخواہیں اور ادارہ کے دیگر اخراجات پورے کر سکتے ہیں ؟ تفصیل کے ساتھ اس مسئلہ میں رہنمائی فر مائیں ۔  

جواب

واضح رہےکہ زکوۃ کا مصرف مستحق زکوۃ افراد ہیں،  چاہے وہ مقامی طلبہ ہوں یا غیر مقامی طلبہ ، لہذا اگر  مذکورہ طلبہ مستحقِ  زکوۃ ہو ں  یعنی صاحبِ  نصاب نہ ہوں ، ضرورت سے زائد بقدر نصاب ( ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت ) رقم کے مالک نہ ہو ں، یا ضرورت سے زائد بقدر نصاب سامان کے مالک نہ ہو ں،  اس طرح ان طلبہ میں اگر بعض طلبہ نابالغ ہو ں اور  ان کے والد ین غریب اور مستحق زکوۃ ہوں تو ایسی صورت میں ایسے طلبہ کے لیے زکوۃ کی رقم، اشیاء وصول کر کے ان طلبہ کو مالک بنانا  جائز ہوگا ، طلبہ کو مالک بنانےکے بعد طے شدہ اور مقررہ کردہ فیس لے کر  یہ رقم مدرسہ کے اخراجات ، اساتذہ وغیرہ کی تنخواہوں میں صرف کر نا جائز ہوگا ، طلبہ کو مالک بنائے بغیر براہ راست کھانے ، پینے یا تنخواہ میں زکوۃ کی رقم لگانا جائز نہیں ہوگا ۔

الدر المختار  ميں ہے :

"ويشترط أن يكون الصرف (تمليكا) لا إباحة كما مر (لا) يصرف (إلى بناء) نحو (مسجد و) لا إلى (كفن ميت وقضاء دينه)"

"(قوله: تمليكا) ‌فلا ‌يكفي فيها الإطعام إلا بطريق التمليك."

( کتاب الزکوۃ ، باب مصرف الزکوۃ و العشر، ج:2  ص:،344 ط: سعید)

فتاوی عالمگیریہ میں ہے:

"ولا يجوز أن يبني بالزكاة المسجد، وكذا القناطر والسقايات، وإصلاح الطرقات، وكري الأنهار والحج والجهاد وكل ما لا تمليك فيه، ولا يجوز أن يكفن بها ميت، ولا يقضى بها دين الميت كذا في التبيين."

(کتاب الزکوۃ ، الباب السابع:  فی المصارف ، ج:1 :ص:188، ط : رشیدیہ)

فتاوی رحیمیہ میں ہے : 

"سوال : ہماری بستی  کے ہر محلہ میں ایک مکتب ہے جس میں ناظرہ ، اردو ، دینیات ،تعلیم الاسلام  وغیرہ کی تعلیم ہوتی ہے ،اسی قسم کا ایک مکتب "نورالاسلام " نامی چلارہاہے ، جس میں پانچ سو مقامی بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں ، مدرسہ کی آمدنی صرف چندہ(جو چھ ہزار ہوتی ہے ) ہے ، اور فی بچہ ماہانہ آٹھ آنے ، اس طرح کل دس ہزار آمدنی ہو جاتی ہے ، اور خرچ اٹھارہ ہزار روپے ، باقی آٹھ ہزار روپے زکوۃ کے پیسوں  میں سے خرچ کئے جائیں ، گو جائز ہے یا نہیں ؟ یعنی مذکورہ صورت میں زکوۃ کا مصرف مدرسہ ہوگا یا نہیں ؟

جواب : صورت مسئولہ میں زکوۃ کی رقم مدرسہ کی تعمیر اور مدرسین و ملازمین کی تنخواہ میں استعمال کرنا درست نہیں ہے ، زکوۃ اداء نہ ہو گی ، جوازکی صورت یہ ہے کہ فیس بڑھاکر ایک روپیہ یا کم وبیش کردی جائے اور زکوۃ کی رقم مستحقین طلبہ کو ماہانہ بطور امداد یا وظیفہ دی جائے اور پھر فیس میں وصول کرلی جائے تو زکوۃ اداء ہو گی اور اس کے بعد یہ رقم تنخواہوو غیرہ میں خرچ کرنا جائز ہوگا۔"

( کتاب الزکوۃ ، باب مصارف زکوۃ ، ج: 7 ص: 176، 177 مکتبہ: دارالاشاعت)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144308100656

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں