بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 شوال 1445ھ 23 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

مستحق زکوۃ کو زکوۃ کی رقم سے عمرہ کرانا


سوال

کیا زکٰوة کی رقم سے کسی مستحق کو عمرہ کروایا جا سکتا ہے؟

جواب

صورت مسئولہ میں اگر مستحق زکاۃ شخص کو زکاۃ کی رقم کا  اس طور پر مالک بنا دیا جائے   کہ وہ اپنی مرضی سے اپنی دیگر ضروریات میں اسے استعمال کرنا چاہے تو کرسکتا ہوتو  ایسی صورت میں  اگر عمرے پر جانے کا ارادہ رکھنے والے مستحقِ زکاۃ شخص کو مالک بناکر رقم دے دی جائے اور خود وہ اسے ٹکٹ میں صرف کرے یا رہائش وغیرہ ضروریات میں لگائے تو زکاۃ دینے والے کی زکاۃ بھی ادا ہوجائے گی اور عمرہ والے کا عمرہ بھی ادا ہوجائے گالیکن اگر زکاۃ کی رقم سے عمرہ کا ٹکٹ خرید کر دیا جائے تو اس سے زکاۃ ادا نہ ہوگی۔نیز مستحق زکاۃ بننے کے لیے دیگر تمام شرائط کا پایا جانا ضروری ہے کہ وہ مسلمان مستحق زکاۃ سید ، ہاشمی ، عباسی ، علوی ، جعفری نہ ہو۔

درالمختارمیں ہے:

"وشرعا (تمليك)خرج الإباحة، فلو أطعم يتيما ناويا الزكاة لا يجزيه إلا إذا دفع إليه المطعوم."

(کتاب الزکوۃ،2/ 256 ، 257 ط: دارالفکر)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"ولا يدفع إلى بني هاشم، وهم آل علي وآل عباس وآل جعفر وآل عقيل وآل الحارث بن عبد المطلب كذا في الهداية."

(کتاب الزکوۃ ، الباب السابع فی المصارف،1/ 189 ط: دارالفکر)

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144408101362

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں