بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 شعبان 1445ھ 21 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

مستحقین کو زکاۃ کی مد میں دوائیں فراہم کرنا اور خون ٹیسٹ کی فیس زکاۃ سے دینا


سوال

میں ہفتہ   میں ایک دن  اپنے کلینک میں مریضوں کا علاج مفت کرتا ہوں اور  اس روز  زکات کے  پیسوں سے دوائیں خرید کر مریضوں میں تقسیم کر تا ہوں اور  ان کے  بلڈٹیسٹ بھی کروا دیتا ہوں۔کیا اس طرح سال بھر میں میری زکات  ادا ہو جائے گی؟

جواب

واضح رہے  کہ  زکات   کی  ادائیگی صحیح  ہونے کی من جملہ شرائط میں سے ایک شرط "تملیک" بھی ہے یعنی  زکاۃکے مستحق  کو اس طور پر زکاۃ دینا کہ وہ اس کا مالک بن جائے، لہذا زکاۃ کے مستحق افراد کو زکاۃ کی  مد میں دوائیں فراہم کرنے سے زکاۃ ادا ہوجائے گی، البتہ  زکاۃ  کی  مد  میں بلڈ  ٹیسٹ کی فیس ادا کرنے سے زکاۃ ادا نہیں ہوگی؛ کیوں کہ اس صورت میں تملیک نہیں پائی جارہی ،ٹیسٹ کی فیس زکاۃ سے ادا کرنے کے  لیے جواز کی ایک صورت یہ ہوسکتی ہے کہ  زکاۃ کی نیت سے مستحق شخص کے ہاتھ میں فیس کے بقدر رقم دے دی جائے اور وہ اس سے اپنی فیس ادا کردے، اور دوسری صورت یہ ہوسکتی ہے کہ   مستحق شخص زکاۃ وصول کرنے اور اس سے فیس ادا کرنے کے  لیے کسی کو اپنا وکیل نامزد کردےاور وکیل زکاۃ وصول کرکے مستحق شخص کی طرف سے فیس ادا کردے۔

نیز یہ بھی ذہن نشین  رہے کہ مذکورہ حکم اس صورت میں ہے جب کہ بلڈ ٹیسٹ آپ خود نہ کرتے ہوں اور اس کے لیے اخراجات و انتظام  کی ذمہ داری اور نفع و نقصان آپ کی طرف نہ لوٹتا ہو۔

سال پورا ہونے پر آپ اپنی ملکیت میں موجود اموال زکاۃ کا حساب کرکے واجب مقدار کا اندازا  لگائیں، اگر دواؤں اور ٹیسٹ کی مد میں ادا کی گئی زکاۃ  اور واجب مقدار برابر ہو تو مزید کسی قسم کی ادائیگی آپ پر لازم نہ ہوگی اور اگر کم ہوتو  جتنی مقدار رہ گئی ہو اس کی ادائیگی لازم ہوگی اور اگر زائد ادا کردی ہو تو یہ آپ کی طرف سے صدقہ ہوجائے گا، اور چاہیں تو اسے آئندہ سال کی زکاۃ میں بھی محسوب کرسکتے ہیں۔ 

الفتاوى الهندية (1/ 170):

"أما تفسيرها فهي تمليك المال من فقير مسلم غير هاشمي، ولا مولاه بشرط قطع المنفعة عن المملك من كل وجه لله - تعالى - هذا في الشرع كذا في التبيين."

(كتاب الزكاة، الباب الأول في تفسيرها وصفتها وشرائطها، ط: رشیدیہ)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144207201247

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں