بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 جُمادى الأولى 1444ھ 29 نومبر 2022 ء

دارالافتاء

 

مستحق شخص کا اپنے بھائی سے زکوٰۃ لینا


سوال

میں بے روزگار ہوں،  میں کرائے کے گھر میں اپنے چھوٹے بھائی، اپنی چھوٹی بہن اور والدہ کے ساتھ رہتا ہوں؛ میرا ایک دوسرا بھائی جو اچھی پوسٹ پر ہے، وہ مجھے زکوٰۃ کی مد میں پیسے دیتا ہے،  کیا میں زکوٰۃ کے پیسوں سے گھر کا کرایہ دے سکتا ہوں؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں  اگر  آپ مستحقِ زکوٰۃ  ہیں  (یعنی آپ  کی ملکیت میں ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی قیمت کے برابر ضرورت سے زیادہ  سامان نہیں ہے، نہ ہی سونا، چاندی اور نقدی کی اتنی مقدار موجود ہے کہ جس کا مجموعہ ساڑھے باون تولہ چاند کی قیمت کے برابر ہو، اور نہ ہی آپ ہاشمی یعنی سید/ عباسی   ہیں) تو  آپ  کے لیے زکوٰۃ لینا جائز ہے اور آپ کے بھائی کا آپ کو  زکوٰ ۃ دینا جائز ہے، نیز قرابت داروں کو زکوۃ دینے میں دھرا اجر ملتا ہے: ایک  زکوۃ ادا کرنے کا اور دوسرا صلہ رحمی کا۔ 

لہذا آپ زکوٰۃ وصول کرکے اس سے اپنی تمام ضرورت بشمول کرایہ کے پوری کرسکتے ہیں۔

نیز ملحوظ رہے کہ اپنی اولاد اور ان کی اولاد (پوتاپوتی، نواسا نواسی، نیچے تک) کو  اور  اپنے والدین اور ان کے والدین (دادا دادی ،نانا نانی، اوپر تک) کو زکوۃ  دینا جائز نہیں ہے، نیز شوہر اپنی بیوی کو اوربیوی اپنے شوہر کو زکوۃ  نہیں دے سکتی، ان رشتوں کے علاوہ باقی سب مستحق رشتہ داروں کو زکوۃ دینا جائز ہے۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144109201939

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں