بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 شعبان 1445ھ 21 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

مستحق شخص کے بینک اکاؤنٹ میں زکوٰۃ کی رقم ڈلوانا


سوال

زکات کی رقم اگر مستحق شخص کے بینک اکاؤنٹ میں ڈلوادی جائے تو زکات ادا ہوجائے گی یا اس کے ہاتھ میں دینا ضروری ہے؟

جواب

واضح رہے کہ  زکوٰۃ کی ادائیگی کیلئے مستحقِ زکاۃ کو مالک بنانا شرط ہے،اور مستحق  شخص کے اکاؤنٹ میں پیسے آجانے سے وہ اس کا مالک بن جاتاہے، لہٰذا مستحق شخص کے اکاؤنٹ میں  رقم ٹرانسفر کردینے سے بھی  زکاۃ ادا ہو  جائے گی۔

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2 / 39):

وأما ركن الزكاة فركن الزكاة هو إخراج جزء من النصاب إلى الله تعالى، وتسليم ذلك إليه يقطع المالك يده عنه بتمليكه من الفقير وتسليمه إليه أو إلى يد من هو نائب عنه 

وكذا لو دفع زكاة ماله إلى صبي فقير أو مجنون فقير وقبض له وليه أبوه أو جده أو وصيهما جاز؛ لأن الولي يملك قبض الصدقة عنه.

وكذا لو قبض عنه بعض أقاربه وليس ثمة أقرب منه وهو في عياله يجوز، وكذا الأجنبي الذي هو في عياله؛ لأنه في معنى الولي في قبض الصدقة لكونه نفعا محضا ألا ترى أنه يملك قبض الهبة له؟ ، وكذا الملتقط إذا قبض الصدقة عن اللقيط؛ لأنه يملك القبض له فقد وجد تمليك الصدقة من الفقير۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144206200271

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں