بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 محرم 1446ھ 24 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

مستحق کو زکوۃ کی مد میں ملے ہوئے راشن کے سامان وغیرہ کو آگے بیچنے کا حکم


سوال

اگر کسی زکوۃ کے مستحق کو زکوۃ میں راشن مل جائے تو کیا وہ اس سامان  کو بیچ سکتا ہے یا نہیں؟ اور کوئی بھی انسان جو استطاعت  رکھتا ہوں کیا وہ زکوۃ کا مال خرید سکتاہے؟

جواب

واضح رہے کہ جس کو زکوۃ وغیرہ میں کوئی چیز مل جائے،تو وہ اُس چیزکا مالک بن جاتا ہے، اور اسے اس میں  تصرف کرنے کا اختیار حاصل ہوتاہے ، چاہے توخود استعمال کرے ،یا فروخت کرے یا کسی دوسرے کو ہبہ کرے ،کیونکہ ملکیت تبدیل ہونے سے اُس چیزکا حکم بدل جاتا ہے۔ لہذا صورتِ مسئولہ میں مستحق  زکوۃ کو زکوۃ  کی مد میں راشن وغیرہ  ملنے کی صورت میں اس کے لیے  آگے بیچنا جائز ہے۔اور اسی طرح استطاعت رکھنے والے کےلیے زکوۃ کا مال خریدناجائز ہے، کیونکہ ملکیت تبدیل ہونے سے اُس چیزکا حکم بدل جاتا ہے۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"للمالك أن یتصرف في ملكه أي تصرف شاء."

(کتاب الدعوي، ج: 6، ص: 264، ط: سعید)

فتاوی شامی میں ہے:

"وهل له أن يخالف أمره؟ لم أره والظاهر نعم.

وفي الرد: (قوله: والظاهر نعم) البحث لصاحب النهر وقال؛ لأنه مقتضى صحة التمليك قال الرحمتي: والظاهر أنه لا شبهة فيه؛ لأن ملكه إياه عن زكاة ماله."

(كتاب الزكاة، باب المصرف، ج: 2، ص: 345، ط: سعيد)

صحیح مسلم میں ہے:

"عن قتادة، سمع أنس بن مالك، قال: أهدت بريرة إلى النبي صلى الله عليه وسلم لحماً تصدق به عليها، فقال: «هو لها صدقة، ولنا هدية»."

(كتاب الزكاة، باب إِباحة الهدية للنبي صلى الله عليه وسلم ولبني هاشم وبني المطلب وإِن كان المهدي ملكها بطريق الصدقة...، ج: 2، ص: 700، رقم: 2485، ط: بشري)

ترجمہ:’’ حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گوشت ہدیہ کیا جو ان کو بطورِ صدقہ دیا گیا تھا اس موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ ان کے لیے صدقہ ہے اور ہمارے لیے ہدیہ ہے۔‘‘

فتح القدیر میں ہے:

"قال (وما أدى المكاتب من الصدقات إلى مولاه ثم عجز فهو طيب للمولى لتبدل الملك) فإن العبد يتملكه صدقة والمولى عوضا عن العتق، وإليه وقعت الإشارة النبوية في حديث بريرة - رضي الله عنهما - «هي لها صدقة ولنا هدية».

"(قوله وما أدى المكاتب من الصدقات إلى مولاه ثم عجز فهو طيب للولي لتبدل الملك) وتبدل الملك بمنزلة تبدل العين في الشريعة، كذا في الكافي وعامة الشروح."

(كتاب المكاتب،‌‌ باب موت المكاتب وعجزه وموت المولى، ج: 8، ص: 149،148، ط: رشيدية)

فتاوی شامی میں ہے:

"(وطاب لسيده وإن لم يكن مصرفا) للصدقة (ما أدي إليه من الصدقات فعجز) لتبدل الملك، وأصله حديث بريرة 'هي لك صدقة ولنا هدية'."

(كتاب المكاتب، باب موت المكاتب وعجزه وموت المولي، ج: 6، ص: 116، ط: سعید)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144501100293

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں