بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ذو القعدة 1445ھ 24 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

مستحق کو رقم دینے کے بعد زکوۃ کی نیت کرنے کا حکم


سوال

میرے اک دوست  کو رقم کی ضرورت تھی ، اس نے مجھ سے ادھار رقم مانگی تو میں نے اپنے بھائی کو جو میرے ساتھ ہی کام کرتا تھا اسے کہا کہ میرے اکاؤنٹ سے میرے فلاں دوست کو  اتنی  رقم بھیجو، میرے بھائی نے اتنی رقم بینک کے ذریعے بھیج دی ،وہ دوست چونکہ مستحق بھی ہے تو بھیجنے کے بعدمیں نے یہ نیت کی کہ میں اس سے اپنے پیسے واپس نہیں لوں گا،اور یہ میری طرف سے زکوة  ہو گئی،اور  اپنے دوست کو کہا کہ میں نے آپ کو پیسے بھیج دیے ہیں آپ وصول کر لیں،تو اس نے وہ وصول کر کے استعمال کر لیے ، کیا اس طرح سے میری زکوۃ ادا ہو جائے گی؟

جواب

واضح رہے کہ زکوۃ کی صحت کے لیے حقیقتاً یا حکماً زکوۃ کی نیت کا ادائیگی  کے ساتھ  ملا ہوا  ہونا ضروری ہے ،(یعنی رقم کسی مستحق کو دیتے  وقت  زکوۃ کی نیت کر لے ،یا مستحق  کو رقم دینے کے بعد جب تک کہ رقم مستحق نے خرچ نہ کی ہوتب تک   زکوۃ کی نیت کرنا ،) الغرض جب تک وہ رقم مستحق کے پاس موجود ہو   اس وقت تک زکوۃ کی نیت  کی جا سکتی ہے،لہذا سائل نے چونکہ مذکورہ دوست کے وصول کرنے سے پہلے ہی زکوۃ کی نیت کر لی تھی ،اس لیے اس رقم پر زکوۃ کی نیت کرنا درست ہے، زکوۃ ادا ہو جائے گی۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(وشرط صحة أدائها نية مقارنة له) أي للأداء (ولو) كانت المقارنة (حكما) كما لو دفع بلا نية ثم نوى والمال قائم في يد الفقير

وفي الرد :(قوله: والمال قائم في يد الفقير) بخلاف ما إذا نوى بعد هلاكه بحر. وظاهره أن المراد بقيامه في يد الفقير بقاؤه في ملكه لا اليد الحقيقية، وأن النية تجزيه مادام في ملك الفقير، ولو بعد أيام۔۔(أو مقارنة بعزل ما وجب) كله أو بعضه."

(کتاب الزکوۃ ،ج:2،ص:269،ط:سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144508101477

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں