بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 شعبان 1445ھ 26 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

مستحق زکات کے کہنے پر دوسرے کے اکاؤنٹ میں رقم جمع کرانے کی صورت میں ادائگی زکات کا حکم احرام ناپاک ہوجانے کا حکم


سوال

زکوٰۃ کی رقم جس کو دینی ہے اس  کی اجازت سے اس کے کہنے پر کسی دوسرے کے اکاؤنٹ میں جمع کرادی تو زکوٰۃ ادا ہو جائےگی؟

اگر عمرہ میں احرام ناپاک ہو جائے تو احرام پورا اتار کر دھو کر پہن سکتے ہیں اس میں کوئی مسئلہ تو نہیں ہے یا دوسرا احرام باندھ سکتے ہیں؟

جواب

1۔زکوٰۃ کی رقم جس کو دینی ہے اس  کی اجازت سے اس کے کہنے پر کسی دوسرے  مستحق زکوٰۃ کے اکاؤنٹ میں جمع کرادی گئی  تو(تملیک کےپائے جانے کی وجہ سے) زکوٰۃ ادا ہو جائےگی۔

اگر عمرہ میں احرام ناپاک ہو جائے تو احرام کی چادریں   اتار کے دھو کر پہن سکتے ہیں ،دوسری  احرام  کی چادریں پہننا ضروری نہیں۔  اور اگر دوسری چادر پہن لی جائے تو بھی  حرج نہیں، تاہم یہ ضروری ہے کہ دوسری چادر جو احرام کی حالت میں تبدیل کی جائے اس پر خوشبو نہ لگی ہو۔

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"أما تفسيرها فهي تمليك المال من فقير مسلم غير هاشمي، ولا مولاه بشرط قطع المنفعة عن المملك من كل وجه لله - تعالى - هذا في الشرع كذا في التبيين."

(کتاب الزکواۃ،1/ 170 ط:رشیدیہ )

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144404101705

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں