بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو الحجة 1445ھ 20 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

مشت زنی کے بعد نکلنے والے چند قطروں کا حکم


سوال

 اگر کوئی شخص مشت زنی کرتا ہے اور آخر میں رک جاتا ہے اور بار بار ایسا کرتا رہتا ہے، لیکن منی خارج نہیں ہوتی کچھ دیر بعد بغیر دفق و شہوت دو چار یا مزید قطرے نکلتے ہیں کہ جن سے شہوت ختم نہیں ہوتی اور لذت بھی محسوس نہیں ہوتی اور اس آدمی کی منی بھی بوقتِ احتلام وغیرہ کثیر مقدار میں خارج ہوتی ہے تو کیا ان قطرات سے غسل واجب ہو جائے گا؟ اگر نہیں ہوگا تو ان قطرات کا کیا حکم ہوگا؟ کیوں کہ مذی تو چھیڑ چھاڑ کے وقت نکلنے والے پانی کو کہتے ہیں ،جب کہ یہاں مشت زنی کرتا رہا ، نیز اگر یہی قطرے پیشاب کے ساتھ اسی کیفیت سے خارج ہوں تو اس کا حکم ودی جیسا ہے یا منی کا حکم لگے گا اس پر بھی ؟

جواب

 مشت زنی کرنا ناجائز اور گناہ ہے،  اس کی حرمت قرآنِ کریم سے ثابت ہے۔ ( سورۃ المومنون  ، آیت ، ۵ تا ۸)۔

نیز کئی احادیث میں اس فعلِ بد  پر وعیدیں وارد ہوئی ہیں، اور اس فعل کے مرتکب پر لعنت کی گئی ہے، اور  ایک حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سات لوگ ایسے ہیں جن سے اللہ تعالٰی قیامت کے دن نہ گفتگو فرمائیں گے اور نہ ان کی طرف نظرِ کرم فرمائیں گے ۔۔۔ اُن میں سے ایک وہ شخص ہے جو اپنے ہاتھ سے نکاح کرتا ہے (یعنی مشت زنی کرتا ہے ) ،باقی مشت زنی کر تے کرتے رک جانے پر جو چند قطرے نکلتے ہیں اگر وہ منی کے قطرے ہیں تو پھر اس صورت میں غسل واجب ہو گا ، اور اگر منی کے قطرے نہیں بلکہ مذی کے ہیں تو اس صورت میں غسل واجب نہیں ۔

الدر المختار مع رد المحتار  میں ہے :

"(وفرض) الغسل (عند) خروج (مني) من العضو وإلا فلا يفرض اتفاقا؛ لأنه في حكم الباطن (منفصل عن مقره) هو صلب الرجل وترائب المرأة۔۔۔(بشهوة) أي لذة ولو حكما كمحتلم۔۔۔۔(قوله: تقييد قولهم) أي فيقال إن عدم وجوب الغسل بخروجه بعد البول اتفاقا إذا لم يكن ذكره منتشرا."

(کتاب الطھارۃ،161/160/159،ط : سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144403101239

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں