بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 شوال 1445ھ 17 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

مسند حمیدی نسخہ اعظمی میں عدمِ رفعِ یدین سے متعلق روایت کی تحقیق


سوال

مسند حمیدی جو مولانا حبیب الرحمن اعظمی  رحمہ اللہ کی تحقیق سے شائع ہے،  اس کی حدیث نمبر( 626) درج ذیل ہے:

 حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ رَفَعَ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ، وَبَعْدَ مَا يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ فَلَا يَرْفَعُ وَلَا بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ»

اس حدیث پر پر غیر مقلدین  اعتراض کرتے ہیں کی یہ روایت ، رفع الیدین کی ہے،  احناف نے اس حدیث میں تحریف کر دی ہے،  اس میں "وبعد ما یرفع راسه من الرکوع" کے بعد "فلا یرفع" کے الفاظ ، احناف نے اپنی طرف سے بڑھا دیئے  ہیں -  مسندِ حمیدی کا قدیم نسخہ جو ملکِ شام کے مکتبہ ظاہریہ سے شائع شدہ ہے ،  اس میں "فلا یرفع"  کے الفاظ موجود نہیں ہیں، یہی اعتراض مشہور غیر مقلد  عالم مولانا زبیر علی زئی صاحب نے اپنی کتاب  نورالعین في إثبات  رفع الیدینمیں بھی کیا ہے - برائے  مہربانی رہنمائی فرمائیں۔

جواب

علامہ اعظمی رحمہ اللہ نےمسند حمیدی پر  اپنے کام کا آغاز تین نسخوں (دیوبند، عثمانیہ، اور سعیدیہ) کی بنیاد پر کیا تھا، ظاہریہ کا نسخہ آپ کو بعد میں دستیاب ہوا تھا، ظاہریہ والے نسخے کے متن میں اگرچہ فرق ہے، لیکن باقی تینوں نسخوں کے متن میں اتفاق ہے، اور وہ وہی ہے جو مطبوعہ میں ہے، اور علامہ اعظمی رحمہ اللہ نے اسی کو اپنی تعلیق میں پوری وضاحت کے ساتھ ذکر  کردیا ہے، اور دوسری کتابوں میں موجود زُہری کی روایتوں سے اس کا مختلف ہونا بھی بیان کردیا ہے، یہ تو  تحقیق میں دیانت واحتیاط کا اعلی  درجہ ہے۔

مزید یہ کہ یہ روایت ، مسند حمیدی کےہندوستانی نسخوں میںجس طرح آئی ہے، بعینہ اسی مفہوم کے ساتھ مسند ابو عوانہ میں بھی  آئی ہے، اور اُس میں اس کو حمیدی کے علاوہ سفیان کے پانچ سے زیادہ شاگردوں نے ان سے تقریبا ان ہی الفاظ میں روایت کیا ہے، جو الفاظ حمید ی کے ہندستانی نسخوں میں  آئے ہیں ، مسند ابو عوانہ    کی روایت ملاحظہ ہو :

حدثنا عبد الله بن أيوب المخرمي وسعدان بن نصر وشعيب بن عمرو في آخرين، قالوا: حدثنا سفيان بن عيينة، عن الزهري عن سالم، عن أبيه، قال: رأيت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- إذا افتتح الصلاة رفع يديه، حتى يحاذي بهما -وقال بعضهم: حذو منكبيه-،  وإذا أراد أن يركع وبعد ما يرفع رأسه من الركوع لا يرفعهما، - وقال بعضهم: ولا يرفع بين السجدتين-، والمعنى واحد.

مسند ابو عوانہکی اس روایت کا مفہوم وہی ہے جو مسندحمیدی کے مطبوعہ نسخے کا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں جاتے وقت اور  رکوع سے اٹھنے کے بعد رفع یدین نہیں فرماتے تھے، اور بعض حضرات کی روایت میں یہ ہے کہ دونوں سجدوں کے درمیان بھی نہیں اٹھاتے تھے۔

ابو عوانہ رحمہ اللہ کے مطابق اس روایت کو سفیان سے ان کے پانچ معلوم  شاگردوں نے نقل کیا ہے :

(۱) عبد اللہ بن ایوب،(۲) سعدان بن نصر ،(۳) شعیب بن عمرو،(۴) امام شافعی ،(۵) علی ابن مدینی رحمہم اللہ تعالی۔ ( اس طرح سفیان سے روایت کرنے والے –حمیدی کے علاوہ- معلوم افراد پانچ ہوگئے )

لیکن اسی کے ساتھ ابو عوانہ نے  "في آخرین"بھی لکھا ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ صرف یہی نہیں ہیں ، بلکہ ابو عوانہ کو اس حدیث کی خبر دینے والے اور لوگ بھی ہیں ، گویا پوری ایک جماعت نے اس حدیث کو انہی الفاظ میں روایت کیا ہے، جو مسند حمیدی کے مطبوعہ ہندوستانی نسخے کے ہیں ۔

                    اس کے بعد ابو عوانہ نے یہ روایت ذکر کی ہے :

حدثنا الصائغ بمكة، قال: حدثنا الحميدي، قال: حدثنا سفيان، عن الزهري، قال: أخبرني سالم، عن أبيه، قال: رأيت رسول الله - صلى الله عليه وسلم - مثله.

(مسند أبي عوانة، بيان رفع اليدين في افتتاح الصلاة قبل التكبير بحذاء منكبيه وللركوع ولرفع رأسه من الركوع وأنه لا يرفع بين السجدتين (2/ 90 و91)، ط/ دائرة المعارف العثمانية 1363ه)

 اب قارئین غور فرمائیں کہ اس میں بھی امام حمیدی کی روایت وہی ہے جو مسند حمیدی کے تینوں ہندوستانی مخطوطوں  میں ہے، اور سفیان بن عیینہ کے مذکورہ بالا پانچوں  شاگرد ( جن کا نام بنام ذکرہے،  ورنہ ان کے علاوہ اور لوگ بھی ہیں) وہی بات کہتے ہیں  جو حمیدی کہتے ہیں، اور حمیدی کے شاگرد صائغ وہی بات کہتے ہیں جو ان کے دوسرے شاگرد اور مسند حمیدی کے روای بشر بن موسی اسدی کہتے ہیں ۔

ان پر غور  کرنے کے بعدتحریف وجعل سازی کے الزام کی  حقیقت پوری طرح آشکارا ہو جاتی ہے کہ نہ صرف علامہ اعظمی رحمہ اللہ کا دامن اس تہمت سے پوری طرح پاک ہے، بلکہ دوسری بہت سی روایتیں اس کی تائید کرتی ہیں، جو مسند حمیدی میں ہیں، اور بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ خود ظاہریہ والے نسخے میں کاتب ِنسخہ سے غلطی یا سہو ہوا ہے۔

مسندِ حمیدی کے مخطوطہ دیوبند  کے کاتبین غیر مقلد حضرات ہیں :  

اس قضیے کا ایک دلچسپ پہلو یہ ہے کہ علامہ اعظمی نے درا العلوم دیوبند کے جس نسخے کو اصل بنایا تھا ، اس کے دو کاتب تھے، ایک حافظ نذیر حسین عرف زین العابدین  اور دوسرے محی الدین زینبی ، اور دونوں غیر مقلد تھے ، جیسا کہمولانا حبیب الرحمن  اعظمی صاحب رحمہ اللہ کی سوانح حیات  ’’حیاتِ ابو المآثر ‘‘ کے مرتّب جناب ڈاکٹر مسعود احمد  اعظمی نے(راحة القلب والعینین: ۱۱۰)  کے حوالہ سے نقل فرمایاہے۔  

           (ملاحظہ فرمائیے: حیاتِ ابو المآثر (2/565 تا 567) ط/المجمع العلمی، مرکز تحقیقات وخدمات علمیہ مئو،سن اشاعت 1432ھ)

                اس نسخہ سے متعلق خود علامہ اعظمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ :     یہ اصل میں شیخ  ادیب فاضل محیی الدین الہ آبادی رحمہ اللہ کا ہے جو کہ تاریخ صغیر بخاری ، اور المؤتلف والمختلف لعبد الغنی بن سعید وغیرہ کے ناشر ہیں ، اور انہوں نے ہی اپنے اس مملوکہ مخطوطہ کو دار العلوم دیوبند کے لیے وقف للہ کیا تھا ، جیسا کہ انہوں نے اس نسخہ پر خود تحریر فرمایا ہے ۔

(مقدمہ مسند الحمیدی للشیخ حبیب الرحمن الاعظمی  (1/ 5)، ط/المجلس العلمی (کراچی پاکستان،ڈھابیل  ہند، طبعہ اولی:1382ھ)

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144408101052

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں