بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1444ھ 08 دسمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

مسنّہ سے کیا مراد ہے؟


سوال

کیا "مسنہ "سے مراد دو  دانتوں والاجانور  ہے؟

جواب

"مسن"  کا لفظ "سن" سے ہے، اور  "سن"  کا معنی لغت میں "دانت "اور "عمر "دونوں آتے ہیں،"مسنۃ"سے مراد وہ جانور ہیں جو دانت والے ہوں۔ محدثین نے اس کی تفصیل یہ ذکر کی ہے کہ: چھوٹے جانور (بکرا،بکری) میں  "مسنۃ"سے مراد ایک سال  کی عمر والا جانور ہے۔گائے ،بیل ،بھینس میں "مسنۃ"سے مراد جن کی دو سال عمر مکمل ہوچکی ہو، اور اونٹ ،اونٹنی میں "مسنۃ"سے مراد جو پانچ سال عمر مکمل کرکے چھٹے سال میں داخل ہوں۔

یہ بھی یاد رہے کہ جانوروں میں دانت ظاہری علامت ہے، اصل جانوروں کی عمر کا اعتبار ہے، اور مختلف جانوروں کی علیحدہ علیحدہ عمر کا اعتبار ہے، جس کی تفصیل اوپر ذکر کردی گئی ہے۔

شرح النووي على مسلم ـ مشكول - (6 / 456)

" ( لاتذبحوا إلا مسنة إلا أن يعسر عليكم فتذبحوا جذعة من الضأن )قال العلماء : المسنة هي الثنية من كل شيء من الإبل والبقر والغنم فما فوقها."

شرح سنن أبي داود ـ عبد المحسن العباد - (15 / 173)

"قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: (لا تذبحوا إلا مسنة؛ إلا أن يعسر عليكم فتذبحوا جذعة من الضأن) ]. أورد أبو داود : [باب ما يجوز من السن في الضحايا]، وهذه الترجمة تتعلق بأسنان الضحايا وعمرها، والحد الأدنى لما يجزئ منها، ومعلوم أن الضحايا إنما تكون من بهيمة الأنعام فقط، وهي: الإبل، والبقر، والغنم. والمعروف عند العلماء أن الضحية تكون بالجذع من الضأن والثني من غيره، أي الثني من المعز والبقر والإبل. فالجذع من الضأن هذا أقل شيء، وهو ما تم له ستة أشهر فأكثر، والثني من غيره قال بعض أهل العلم: هو من المعز والضأن ما تم له سنة ودخل في السنة الثانية، ومن البقر ما تم له سنتان ودخل في السنة الثالثة، ومن الإبل ما أكمل خمس سنوات ودخل في السادسة"۔

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح - (3 / 1079)

"(وعن جابر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لاتذبحوا إلا مسنةً) : وهي الكبيرة بالسن، فمن الإبل التي تمت لها خمس سنين و دخلت في السادسة، و من البقر التي تمت لها سنتان و دخلت في الثالثة، و من الضأن و المعز ما تمت لها سنة، كذا قاله ابن الملك."

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144212200308

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں