بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 26 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

مصیبت کے وقت اذان دینا


سوال

 کورونا وائرس  جو کہ پوری دنیا میں تباہی مچارہا ہے اور اس کے خاتمے کے لیے ہر ملک ویکسین بنانے اور اس پر تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں، وہیں کچھ مذہبی عقائد بھی ہیں جو کہ ہر قوم اور مذہب میں پائے جاتے ہیں۔ اسی ضمن میں ایک مولانا صاحب کی جانب سے کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے بڑا اعلان کیا گیا ہے جس کے مطابق مولانا نے پاکستانی عوام سے اذانیں دینے کی اپیل کی ہے۔ مولانا کا کہنا ہے کہ ملک بھر کے مسلمان آج رات 10 بجے اپنی چھتوں سے بلند آواز میں اذان دیں جب کہ تمام مؤذن مسجدوں میں ایک آواز بن کر اذان دیں۔ مولانا کا اس صورت حال پر کہنا ہے کہ مشکل وقت میں اذان دینا نبی کریم کی سنت اور صحابہ کرام کا طریقہ ہے؛ اس لیے سنت پر عمل کرتے ہوئے آج رات 10بجےاجتماعی اذان کی درخواست ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشکل کی گھڑی میں اللہ کے نیک بندے اذان کے ذریعے اللہ کی جانب سے امن طلب کرتے تھے، ہم بھی اس کی پیروی کرتے ہوئے اذان دینے کا طریقہ اپنائیں گے؛ اس کے لیے پوری قوم آج رات دس بجے اجتماعی اذان میں حصہ لیں!

جواب

وبا کے خاتمے کے لیے اذان دینے کے بارے میں فقہائے احناف سے کوئی روایت منقول نہیں ہے،  نیز قرآنِ مجید یا کسی حدیث میں بھی اس کا ذکر موجود نہیں ہے، البتہ شوافع کے ہاں  مصائب ، شدائد اور عمومی پریشانیوں کے بعض مواقع پر اذان دینے کی اجازت منقول ہے، اس لیے وبا کے خاتمے کے لیے اذان دینے کی گنجائش ہے، تاہم اس میں درج ذیل شرائط کی رعایت ضروری ہے:

1۔۔ اس عمل کے سنت یا مستحب ہونے کا اعتقاد نہ ہو۔

2۔۔  اس کو لازم اور ضروری سمجھ کر  نہ کیا جائے۔

3۔۔ مساجد میں یہ اذان نہ دی جائے۔

4۔۔ ایسی وضع کے ساتھ نہ دی جائے جس سے اذانِ نماز ہونے کا اشتباہ ہو۔

5۔۔  اس کے لیے کسی مخصوص ہیئت اور  اجتماعی کیفیت کا التزام نہ کیا جائے۔

مذکورہ بالا شرائط کا لحاظ رکھ کر وبا کے خاتمے کے لیے اذان دی جائے تو حکم کے اعتبار سے یہ مباح ہے، سنت یا مستحب نہیں ہے، نیز  یہ بطورِ علاج ہے۔

جامعہ ہٰذا کے سابقہ فتاویٰ میں ہے:

’’سوال:

کسی عظیم حادثے کے نازل ہونے کے بعد مسجدوں میں رات کے وقت اذانیں دی جائیں؛ تاکہ اس کی برکت سے بلا رفع ہوجائے، کیا اس کا کوئی شرعی ثبوت ہے؟

جواب:

صورتِ مسئولہ میں احناف سے اس بارے میں کوئی روایت منقول نہیں، البتہ شوافع کے اقوال سے مسنون معلوم ہوتاہے، جس پر علامہ شامی رحمہ اللہ نے کہاہے کہ ایسے مواقع پر اذان دی جائے تو ہمارے نزدیک بھی اس کی گنجائش ہے؛ لما في رد المحتار:

’’ولا بعد فيه عندنا...‘‘ الخ (کتاب الصلاة، باب الأذان، مطلب في المواضع التي یندب لها الأذان في غیر الصلاة، (1/385) ط: سعید)

البتہ یہ اذان مسجدوں میں نہ دی جائے؛ تاکہ اذانِ صلاۃ کے ساتھ التباس نہ ہوجائے۔ فقط واللہ اعلم

کتبہ: محمد عبدالسلام چاٹ گامی                                                                       الجواب صحیح: ولی حسن‘‘

فتاوی شامی میں ہے :

" مطلب في المواضع التي يندب لها الأذان في غير الصلاة

(قوله: لا يسن لغيرها) أي من الصلوات وإلا فيندب للمولود. وفي حاشية البحر الرملي: رأيت في كتب الشافعية أنه قد يسن الأذان لغير الصلاة، كما في أذان المولود، والمهموم، والمصروع، والغضبان، ومن ساء خلقه من إنسان أو بهيمة، وعند مزدحم الجيش، وعند الحريق، قيل وعند إنزال الميت القبر قياسا على أول خروجه للدنيا، لكن رده ابن حجر في شرح العباب، وعند تغول الغيلان: أي عند تمرد الجن لخبر صحيح فيه. أقول: ولا بعد فيه عندنا. اهـ. أي لأن ما صح فيه الخبر بلا معارض فهو مذهب للمجتهد وإن لم ينص عليه، لما قدمناه في الخطبة عن الحافظ ابن عبد البر والعارف الشعراني عن كل من الأئمة الأربعة أنه قال: إذا صح الحديث فهو مذهبي، على أنه في فضائل الأعمال يجوز العمل بالحديث الضعيف كما مر أول كتاب الطهارة، هذا، وزاد ابن حجر في التحفة الأذان والإقامة خلف المسافر. قال المدني: أقول وزاد في شرعة الإسلام لمن ضل الطريق في أرض قفر: أي خالية من الناس. وقال المنلا علي في شرح المشكاة قالوا: يسن للمهموم أن يأمر غيره أن يؤذن في أذانه فإنه يزيل الهم، كذا عن علي - رضي الله عنه - ونقل الأحاديث الواردة في ذلك فراجعه. اهـ". (1/385،باب الاذان، ط: سعید )

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (2 / 547):
"وخرج بها الأذان الذي يسن لغير الصلاة كالأذان في أذن المولود اليمنى، والإقامة في اليسرى، ويسن أيضًا عن الهم وسوء الخلق لخبر الديلمي، «عن علي: رآني النبي صلى الله عليه وسلم حزينًا فقال: (يا ابن أبي طالب إني أراك حزينًا فمر بعض أهلك يؤذن في أذنك، فإنه درأ الهم) قال: فجربته فوجدته كذلك». وقال: كل من رواته إلى علي أنه جربه، فوجده كذلك. وروى الديلمي عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ( «من ساء خلقه من إنسان أو دابة فأذنوا في أذنه» )".

’’کفایت المفتی‘‘  (از مفتی اعظم ہند حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ صاحب  رحمہ اللہ) میں ہے :

’’سوال : دفعِ وباء کے لیے اذان دینا جائز ہے یا نہیں؟  تنہا یا گروہ کے ساتھ مسجد میں یا گھر میں؟

جواب : دفعِ وباء کے لیے اذانیں دینا تنہا یا جمع ہوکر بطورِ علاج اور عمل کے مباح ہے، سنت یا مستحب نہیں‘‘۔  (۳ / ۵۲، دار الاشاعت ) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144107201264

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے