بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 محرم 1444ھ 11 اگست 2022 ء

دارالافتاء

 

مشترکہ پیسوں سے خریدی گئی زمین کا حکم / غصب کے منافع کو صدقہ کرنا واجب ہے


سوال

ہم  تین بھائی تھے،  ہماری مشترکہ زمین تھی،  ہم میں سے دو بھائیوں نے وہ زمین فروخت کی، تیسرے کو معلوم ہوا،  وہ بھی راضی ہوگیا،  پھر ان دو  بھائیوں نے کل پیسوں سے دوسری  زمین خریدی،  کچھ عرصہ بعد ان دو بھائیوں نے تیسرے بھائی سے کہا کہ:" یہ زمین ہم دونوں کی ہے،  آپ کا اس میں حصہ  نہیں ہے"،  اس نے کہا کہ :"آپ نے میرے پیسے لگائے  ہیں"،  وہ دونوں بھائی  کہتے ہے  کہ:" ہم آپ کو آپ کے پیسے لوٹا دیں گے"، لیکن  وہ نہیں مانتا اور  اس زمین میں سے حصہ مانگ رہاہے۔

سوال یہ ہے کہ  مشترکہ  پیسوں سے خریدی گئی زمین میں اس تیسرے بھائی کا کوئی  حق و حصہ   ہے یا نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر زمین خریدنے والے بھائیوں نے اپنے تیسرے بھائی کی اجازت سے مذکورہ   زمین   خریدی ہے تو اس صورت میں یہ  زمین تینوں بھائیوں میں مشترک ہوگی اور ہر ایک  اپنی اپنی رقم کے تناسب سے شریک ہوگا، لیکن اگر تیسرے بھائی کی اجازت کے بغیر مذکورہ زمین خریدی ہے تو ان دونوں بھائیوں کے لیے اس کی اجازت کے  بغیر اس کے پیسوں کو استعمال میں لانا جائز نہیں تھا، تاہم اس صورت میں وہ بھائی اس زمین میں شریک نہیں ہوگااور ان دونوں بھائیوں کے ذمہ اس کے پیسے واپس کرنا لازم ہے، لیکن بھائی کو رقم واپس کرنے تک اس کے پیسوں کے بقدر خریدی گئی  زمین کے حصے سے جو بھی نفع ہوا ہو،  چاہے وہ زمین کی قیمت میں اضافہ کی شکل میں ہو یا اس پر فصل وغیرہ کاشت کی ہو ، بہر صورت بھائی کے حصہ کے بقدر زمین کے منافع کو استعمال میں لاناجائز نہیں ، بلکہ    فقراء میں صدقہ کرنا واجب ہے۔

مجلة الأحكام العدليةمیں ہے:

"المادة (1452) الإذن والإجازة توكيل."

(‌‌الكتاب الحادي عشر: في الوكالة،‌‌الباب الأول: في بيان ركن الوكالة وتقسيم ركن التوكيل: 280، ط:نور محمد کتب خانہ )

فتاوی شامی میں ہے:

"شركة ملك، وهي أن يملك متعدد) اثنان فأكثر (عينا) أو حفظا كثوب هبه الريح في دارهما فإنهما شريكان في الحفظ قهستاني (أو دينا) على ما هو الحق؛ فلو دفع المديون لأحدهما فللآخر الرجوع بنصف ما أخذ."

 (کتاب الشرکۃ:4/299،ط:سعید)

وفیہ ایضاً:

"والربح في شركة الملك على قدر المال."

(مطلب فیما یبطل الشرکۃ:4 /316،ط:سعید)

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع میں ہے:

"إذا غصب ألفا فاشترى جارية فباعها بألفين، ثم اشترى بالألفين جارية فباعها بثلاثة آلاف أنه يتصدق بجميع الربح."

(کتاب الغصب، فصل فی حکم الغصب: 7 / 154، ط: دار الكتب العلمية)

فقط و الله اعلم


فتوی نمبر : 144307100738

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں