بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 ذو القعدة 1445ھ 21 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

مشترکہ کاروبار میں ایک شریک پر قربانی کا حکم


سوال

میں مدرسے میں زیر تعلیم ہوں،  میرے بھائی کاروبار کرتے  ہیں، جس میں  میں بھی شریک ہوں،  البتہ میں کاروبار میں بااختیار نہیں ہوں،  اور میرے پاس نصاب مطلوبہ بھی نہیں ہے،  کیا اس صورت میں مجھ پر قربانی واجب ہے؟

جواب

واضح رہے کہ قربانی ہر اُس  عاقل، بالغ ، مقیم ، مسلمان  مرد یا عورت پر واجب ہے جس  کی ملکیت میں قربانی کے ایام میں قرض کی رقم منہا کرنے بعد ساڑھے سات تولہ سونا، یا ساڑھے باون تولہ چاندی، یا اس کی قیمت کے برابر رقم ہو،  یا تجارت کا سامان، یا ضرورت سےزائد اتنا سامان  موجود ہو جس کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر ہو، یا ان میں سے کوئی ایک چیز یا ان پانچ چیزوں میں سے بعض کا مجموعہ ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر  ہو۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں جب  سائل    اپنے   بھائی کے ساتھ  کاروبار میں شریک  ہے،  تو  وہ  دونوں بھائیوں  کی ملکیت ہے لہذا اگر کاروبار کی مالیت  تقسیم کرنے کے بعد ہر بھائی مالکِ نصاب رہتا ہے، تو  ہر ایک  پر علاحدہ علاحدہ قربانی  واجب ہوگی۔

فتاوی شامی میں ہے:

'' وشرائطها: الإسلام والإقامة واليسار الذي يتعلق به) وجوب (صدقة الفطر)،..(قوله: واليسار إلخ) بأن ملك مائتي درهم أو عرضاً يساويها غير مسكنه وثياب اللبس أو متاع يحتاجه إلى أن يذبح الأضحية، ولو له عقار يستغله فقيل: تلزم لو قيمته نصاباً، وقيل: لو يدخل منه قوت سنة تلزم، وقيل: قوت شهر، فمتى فضل نصاب تلزمه. ولو العقار وقفاً، فإن وجب له في أيامها نصاب تلزم.''

(‌‌كتاب الأضحية، ج:6، ص:312، ط:سعيد)

فتاوی تاتارخانیہ میں ہے:

"وشرط وجوبها الیسار عند أصحابنا رحمهم اللّٰه، والموسر في ظاهر الروایة من له مائتا درهم، أو عشرون دینارًا، أو شيء یبلغ ذٰلک سوی مسکنه، ومتاع مسکنه، ومرکوبه، وخادمه في حاجته التي لا یستغني عنها."

( کتاب الأضحیة،  الفصل الأول في بیان وجوب الأضحیة ومن تجب علیه ومن لا تجب ، ج:17، ص:405،  رقم: 27649، ط:مكتبة  زکریا بديوبند)

فتاوی ھندیہ میں ہے:

"(وأما) (شرائط الوجوب) : منها اليسار وهو ما يتعلق به وجوب صدقة الفطر دون ما يتعلق به وجوب الزكاة، وأما البلوغ والعقل فليسا بشرط حتى لو كان للصغير مال يضحي عنه..ومنها الإسلام فلا تجب على الكافر..ومنها الحرية فلا تجب على العبد وإن كان مأذونا في التجارة أو مكاتبا..ومنها الإقامة فلا تجب على المسافر...والموسر في ظاهر الرواية من له مائتا درهم أو عشرون دينارا أو شيء يبلغ ذلك سوى مسكنه ومتاع مسكنه ومركوبه وخادمه في حاجته التي لا يستغني عنها، فأما ما عدا ذلك من سائمة أو رقيق أو خيل أو متاع لتجارة أو غيرها فإنه يعتد به من يساره، وإن كان له عقار ومستغلات ملك اختلف المشايخ المتأخرون - رحمهم الله تعالى - فالزعفراني والفقيه علي الرازي اعتبرا قيمتها، وأبو علي الدقاق وغيره اعتبروا الدخل، واختلفوا فيما بينهم قال أبو علي الدقاق إن كان يدخل له من ذلك قوت سنة فعليه الأضحية، ومنهم من قال: قوت شهر، ومتى فضل من ذلك قدر مائتي درهم فصاعدا فعليه الأضحية."

(كتاب ‌الأضحية، الباب الأول في تفسير ‌الأضحية وركنها وصفتها وشرائطها وحكمها، ج:5، ص:292، ط:دارالفكر)

مصنف عبد الرزاق میں ہے:

 عن الثوري قال: " قولنا: لا يجب على الخليطين شيء إلا أن يتم لهذا أربعين، ولهذا أربعين."

( كتاب الزکوة، باب الخلیطین، ج:4، ص:21، رقم:6839، ط:  المجلس العلمي )

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144411102612

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں