بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

مشترکہ زرعی زمین کے چند احکام


سوال

ہمارے گاؤں میں کچھ زمین مشترکہ غیر آباد تھی، اب گاؤں کے لوگوں نے اس مشترکہ زمین کو رؤوس کی بنیاد پر آپس میں تقسیم کردیا ہے اس طور پر کہ ہر مرد و عورت ، بالغ و نابالغ کو کچھ زمین ملی ہے، اور اس تقسیم کا مقصد اس زمین میں کھیتی باڑی کرنا ہے، گھر بنانے اور تجارت کی غرض سے آباد نہیں کررہے۔

اب مذکورہ افراد میں سے کچھ کی مذکورہ زمین غیر آباد ہیں، جنہوں نے اب تک اس زمین کو آباد نہیں کیا ہے؟

مذکورہ بالا تمام صورتوں کی روشنی میں  میں درج ذیل   جوابات مطلوب ہیں:

۱۔اگر ان زمین کی قیمت زکوۃ کے نصاب کے برابر ہو تو کیا ان کے عاقل ،بالغ، مرد وعورت پر زکوۃ  اور قربانی واجب ہوگی یا نہیں؟

۲۔ان پلاٹوں کے مالکان کے پاس اس پلاٹ کے علاوہ کوئی مالِ زکوۃ نہ ہو، تو کیا ان کو زکوۃ اور فطرہ دینا جائز ہے؟

۳۔ جن مالکان کی یہ زمین غیر آباد یعنی کھیتی باڑی کےلیے تیار نہیں کی ہے، توکیا ان زمینوں پر بھی زکوٰۃ اور قربانی واجب ہوگی یا نہیں؟

جواب

۱۔واضح رہے کہ  وجوبِ زکوۃ کے لیے صاحبِ نصاب ہونا اور زکوۃ کی ادائیگی واجب ہونے کے لیے اس پر سال گزرنا شرعاً ضروری ہے،  جس روز کسی عاقل بالغ مسلمان کے پاس بنیادی ضرورت  و استعمال سے زائد نصاب کے بقدر مال (سونا، چاندی، نقدی یا  مالِ تجارت) جمع ہوجائے اس دن سے وہ شرعاً صاحبِ نصاب شمار ہوگا،  اور اسی دن سے سال کا حساب بھی کیا جائے گا، اور قمری حساب سے سال پورا ہونے پر اسی تاریخ کے اعتبار سے زکوۃ واجب ہوگی، جب کہ قربانی لازم ہونے کے لیے صرف صاحبِ نصاب ہونا شرط ہے، سال کا گزرنا شرط نہیں ہے۔

چناں چہ  صورتِ مسئولہ میں یہ  زمینیں چوں کہ کھیتی باڑی   کے لیے ہیں اور ان کے غلہ سے گھر کی ضرورت پوری ہوتی ہے تو وہ ضرورتِ اصلیہ میں داخل ہوں گی، تاہم اگر گھر کی  ضروریات پوری ہونے کے بعد اس میں سے بقدرِ نصاب باقی بچ جائے، یا مابقیہ کو اگر دیگر اموال کے ساتھ ملالے تو زکوٰۃ کی نصاب تک پہنچ جائے،  تو اس پر قربانی کرنا لازمی ہوگا، تاہم چوں کہ زکوۃ کے وجوب کے لیے مال کا نامی ہونا شرط ہے لہذا زراعتی زمین پر زکوۃ ادا کرنا لازم نہیں ہوگا۔

۲۔واضح رہے کہ جس مسلمان کے پاس اس کی بنیادی ضروریات  و استعمال ( یعنی رہنے کا مکان ، گھریلوبرتن ، کپڑے، سواری  وغیرہ)سے زائد،  نصاب کے بقدر  (یعنی ساڑھے باون تولہ چاندی کی موجودہ قیمت  کے برابر)  مال یا  کسی بھی قسم کا سامان موجود  نہ ہو  اور وہ  ہاشمی (سید/ عباسی)  نہ ہو، تو وہ زکوۃ کا مستحق ہے، اس کو زکوۃ دینا اور اس کے لیے ضرورت کے مطابق زکوۃ لینا جائز ہے۔

چناں چہ صورتِ مسئولہ میں جن کی زمینوں کے اناج و  غلہ سے گھر کی ضروریات پوری ہوتی ہو تو وہ ضرورتِ اصلیہ میں داخل ہوں گی ، اور ایسی صورت میں ایسا شخص جو صاحبِ نصاب نہ ہو،  ان زمینوں کے ملکیت میں ہوتے ہوئےبھی زکوۃ کا مستحق ہوگا، اور اس کےلیے زکوٰۃ اور فطرہ لینا جائز ہوگا، تاہم اگر اس میں سے بقدرِ نصاب باقی بچ جائے یا اس کو اگر دیگر اموال کے ساتھ ملالے توزکوٰۃ کے نصاب تک پہنچ جائے، تو وہ زکوۃ کا مستحق نہیں ہوگا،  اور اس کے لیے زکوۃ وفطرہ لینا جائز نہیں ہوگا۔

۳۔اسی طرح جس عاقل، بالغ، مقیم، مسلمان  مرد یا عورت کی ملکیت میں قربانی کے ایام میں، ذمہ میں  واجب الاداء اخراجات منہا کرنے کے بعد ضرورت سے زائد اتنا مال یا سامان  موجود ہو جس کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر یا اس سے زائد ہو (خواہ ضرورت سے زائد مال نقدی ہو یا سونا چاندی ہو یا کسی اور شکل میں ہو، اسی طرح مالِ تجارت نہ بھی ہو) تو ایسے مرد وعورت پر قربانی واجب ہے۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں جن مالکان کے حصہ میں صرف یہی غیر آباد زمین ہے، اور اس کےعلاوہ کوئی مال نہیں ہے، تویہ زمین چوں کہ ضروراتِ اصلیہ سے زائد ہے، اگر اس کی قیمت زکوٰۃ کے نصاب(ساڑھے باون تولہ چاندی کی موجودہ قیمت) کے بقدر ہو، یا اس زمین کی قیمت دیگر اموالِ زکوٰۃکے ساتھ ملاکر زکوٰۃ کے نصاب کو پہنچ رہی ہو،  تو اس پر قربانی واجب ہوگی، تاہم زکوٰۃ کی وجوب کی من جملہ شرائط میں سے ایک شرط اس مال کا ’’نامی‘‘ ہونا بھی ہے، اور یہ شرط اس زرعی زمین میں نہیں پائی جارہی ہے؛ اسی لیے تنہا اس زمین پر زکوٰۃ واجب نہیں ہوگی،ا گر چہ اس کی قیمت زکوٰۃ کےنصاب کو پہنچ جائے۔

لیکن اگر مذکورہ غیر آباد زمین کی قیمت تنہا یا دیگر اموالِ زکوٰۃ کے ساتھ ملاکر زکوٰۃ کے نصاب کو نہیں پہنچ رہی ہو، تواس صورت میں اس زرعی  زمین (کی وجہ سے اس کے مالک )پرقربانی بھی واجب نہیں ہوگی۔

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"(وأما شروط وجوبها فمنها) الحرية حتى لا تجب الزكاة على العبد۔۔۔ومنها الإسلام حتى لا تجب على الكافر۔۔۔(ومنها العقل والبلوغ)۔۔۔(ومنها كون المال نصابا) فلا تجب في أقل منه۔۔۔ومنها الملك التام وهو ما اجتمع فيه الملك واليد۔۔۔(ومنها فراغ المال) عن حاجته الأصلية فليس في دور السكنى وثياب البدن وأثاث المنازل ودواب الركوب وعبيد الخدمة وسلاح الإستعمال زكاة، وكذا طعام أهله وما يتجمل به من الأواني إذا لم يكن من الذهب والفضة، وكذا الجوهر واللؤلؤ والياقوت والبلخش والزمرد ونحوها إذا لم يكن للتجارة۔۔۔(ومنها الفراغ عن الدين)."

(کتاب الزکوۃ، الباب الأول في تفسير الزكاة وصفتها وشرائطها، ج:1، ص:171، 172، ط:دار الفكر بيروت)

و فیه أیضاً:

"ولا یشترط أن یکون غنیا في جمیع الوقت حتی لوکان فقیرا في أول الوقت ثم أیسر في آخرہ تجب علیه."

(كتاب الأضحية، الباب الأول في تفسير الأضحية وركنها وصفتها وشرائطها وحكمها، ج:5، ص:292، 293، ط: دار الفكر بيروت)

و فیه أیضاً:

"وهي واجبة على الحر المسلم المالك لمقدار النصاب فاضلاً عن حوائجه الأصلية، كذا في الاختيار شرح المختار، ولايعتبر فيه وصف النماء، ويتعلق بهذا النصاب وجوب الأضحية، ووجوب نفقة الأقارب، هكذا في فتاوى قاضي خان." 

(كتاب الزكاة، الباب الثامن في صدقة الفطر، ج:1، ص:191، ط:دار الفكر بيروت)

فتاوی شامی میں ہے:

"وشرائطها: الإسلام والإقامة واليسار الذي يتعلق به) وجوب (صدقة الفطر)۔۔۔

(قوله: واليسار إلخ) بأن ملك مائتي درهم أو عرضاً يساويها غير مسكنه وثياب اللبس أو متاع يحتاجه إلى أن يذبح الأضحية، ولو له عقار يستغله فقيل: تلزم لو قيمته نصاباً، وقيل: لو يدخل منه قوت سنة تلزم، وقيل: قوت شهر، فمتى فضل نصاب تلزمه. ولو العقار وقفاً، فإن وجب له في أيامها نصاب تلزم."

(كتاب الأضحية، ج:6، ص:312، ط: سعید)

وفیه أیضًا :

"وذكر في الفتاوى فيمن له حوانيت ودور للغلة لكن غلتها لاتكفيه وعياله أنه فقير و يحل له أخذ الصدقة عند محمد، وعند أبي يوسف لايحل، وكذا لو له كرم لاتكفيه غلته؛ ولو عنده طعام للقوت يساوي مائتي درهم، فإن كان كفاية شهر يحل أو كفاية سنة.......
وفي التتارخانية عن التهذيب: أنه الصحيح وفيها عن الصغرى له دار يسكنها لكن تزيد على حاجته بأن لايسكن الكل يحل له أخذ الصدقة في الصحيح وفيها سئل محمد عمن له أرض يزرعها أو حانوت يستغلها أو دار غلتها ثلاث آلاف ولاتكفي لنفقته ونفقة عياله سنة؟ يحل له أخذ الزكاة وإن كانت قيمتها تبلغ ألوفا وعليه الفتوى وعندهما لايحل اهـ ملخصًا."

( کتاب الزکوۃ، باب مصرف الزكاة والعشر، ج:2ص:348، ط: سعید)

بدائع الصنائع میں ہے:

"فلا بد من اعتبار الغنى ‌وهو ‌أن ‌يكون ‌في ‌ملكه ‌مائتا ‌درهم أو عشرون دينارا أو شيء تبلغ قيمته ذلك سوى مسكنه وما يتأثث به وكسوته وخادمه وفرسه وسلاحه وما لا يستغني عنه وهو نصاب صدقة الفطر."

(كتاب التضحية، فصل في شرائط وجوب في الأضحية، ج:5، 64، ط:دار الكتب العلمية)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144311101713

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں