بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 رمضان 1442ھ 22 اپریل 2021 ء

دارالافتاء

 

مشترکہ جائیداد آپس میں تقسیم کرنا


سوال

والدکےہوتے ہوئے اگر 5 بیٹے اپنی جائیداد تقسیم کریں تو کیا اس میں والد صاحب کا کوئی حق ہوگا؟

جواب

 اگر پانچ بیٹے اپنی مشترکہ مملوکہ جائیداد آپس میں تقسیم کرنا چاہیں تو کرسکتے ہیں، اس میں سے والد کو دینا شرعًا ضروری  نہیں، البتہ اگر والد ضرورت مند ہوں تو ان کے نان و نفقہ کی ذمہ داری تمام بیٹوں پر ہوگی۔

درر الحكام في شرح مجلة الأحكام میں ہے:

"المادة (1192) - (كل يتصرف في ملكه كيفما شاء. لكن إذا تعلق حق الغير به فيمنع المالك من تصرفه على وجه الاستقلال. مثلًا: الأبنية التي فوقانيها ملك لأحد وتحتانيها لآخر فبما أن لصاحب الفوقاني حق القرار في التحتاني ولصاحب التحتاني حق السقف في الفوقاني أي حق التستر والتحفظ من الشمس والمطر فليس لأحدهما أن يعمل عملًا مضرًّا بالآخر بدون إذنه ولا أن يهدم بناء نفسه).

كل يتصرف في ملكه المستقل كيفما شاء أي أنه يتصرف كما يريد باختياره أي لا يجوز منعه من التصرف من قبل أي أحد هذا إذا لم يكن في ذلك ضرر فاحش للغير."

( الباب الثالث في بيان المسائل المتعلقة بالحيطان والجيران، الفصل الأول في بيان بعض القواعد المتعلقة بأحكام الأملاك، 3 / 201، ط: دار الجيل)

 فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144205200899

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں