بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 شعبان 1445ھ 21 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

مشترک کاروبار میں قربانی کس پر لازم ہے؟


سوال

اگر ایک خاندان والے جن کے گھر کاروبار سب مشترک ہو مثال کے طور پر زید،حسن اور بکر بھائی ہیں،عمرو ان کاوالد ہے، وہ بظاہر کاروبار نہیں کرتے، مگر سرمایہ پورا ان کا ہے، اور وہ صاحب نصاب بھی ہے، اب قربانی کس کس پر واجب ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں ذکر کردہ  اشخاص یعنی عمرو،زید،حسن اور بکر میں سےقربانی کے ایام میں جس کے قبضہ یا حصے اورملکیت میں نصاب کے بقدر مال موجود ہو،یعنی ساڑھے سات تولہ سونا،ساڑھے باون تولہ چاندی یاان کی قیمت کے برابر دیگر وہ مال جو فی الحال استعمال میں نہ ہو یا اس کی قیمت کے برابر مالِ تجارت ہو تو اس کے اوپر قربانی لازم ہے۔

"الفتاوي الهندية"میں ہے:

"(وأما) (شرائط الوجوب) : منها اليسار وهو ما يتعلق به وجوب صدقة الفطر دون ما يتعلق به وجوب الزكاة."

(ص:٢٩٢،ج:٥،کتاب الأضحية،الباب الأول،ط:دار الفكر،بيروت)

"رد المحتار على الدر المختار"میں ہے:

"وشرائطها: الإسلام والإقامة واليسار الذي يتعلق به وجوب (صدقة الفطر) كما مر.

(قوله واليسار إلخ) بأن ملك مائتي درهم أو عرضا يساويها غير مسكنه وثياب اللبس أو متاع يحتاجه إلى أن يذبح الأضحية ولو له عقار يستغله فقيل تلزم لو قيمته نصابا، وقيل لو يدخل منه قوت سنة تلزم، وقيل قوت شهر، فمتى فضل نصاب تلزمه. ولو العقار وقفا، فإن وجب له في أيامها نصاب تلزم، وصاحب الثياب الأربعة لو ساوى الرابع نصابا غنى وثلاثة فلا، لأن أحدها للبذلة والآخر للمهنة والثالث للجمع والوفد والأعياد، والمرأة موسرة بالمعجل لو الزوج مليا وبالمؤجل لا، وبدار تسكنها مع الزوج إن قدر على الإسكان.له مال كثير غائب في يد مضاربه أو شريكه ومعه من الحجرين أو متاع البيت ما يضحي به تلزم."

(ص:٣١٢،ج:٦٠،کتاب الأضحية،ط:ايج ايم سعيد)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144411102492

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں