بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 محرم 1446ھ 22 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

مشت زنی کرنے والے کے اعمال فرائض و نوافل قبول ہوتے ہیں


سوال

کیا مشت زنی کرنے والے کی نماز، روزہ، حج اور زکوۃ وغیرہ  فرائض قبول ہوتے ہے یا نہیں ؟

جواب

واضح رہے کہ قرآن مجید کی متعدد آیات ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا کہ اللہ تعالیٰ کسی کا نیک عمل ضائع نہیں فرماتے،چنانچہ قرآن مجید فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَّرَهُۥ یعنی: " جو شخص ذرہ برابر خیر کرے گا اسے دیکھے گا یعنی پائے گا"۔ ایک دوسرے مقام پر ہے   لَا يَلِتْكُم مِّنْ أَعْمٰلِكُمْ شَيْــــًٔا   یعنی:" خدا تعالیٰ تمہارے اعمال میں سے کچھ کم نہیں کرےگا"۔ ایک تیسری آیت میں      إِنَّ اللّٰهَ لَا يُضِيْعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِيْنَ یعنی: "بلاشبہ اللہ تعالیٰ نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا"۔ البتہ بعض حدیثوں میں جو اعمال کے قبول نہ ہونے کا ذکر ہے (مثلا شراب پینے سے، یا کاہن کے پاس آنے سے ، نماز وغیرہ قبول نہیں ہوتی) اس سے مراد قبول رضا ہے یعنی گناہ گاروں کےنیک اعمال  قبول ہوں گے اور ان کے ذمہ سے ساقط ہوجائیں گے اور ان کا اجر بھی ملے مگر اللہ تعالیٰ ان گناہ گاروں سے راضی اور خوش نہیں ہوگا، یا یہ مطلب ہے کہ بعض گناہ اپنی شدت سے اس درجہ پر پہنچ جاتے ہیں کہ ان کا وزن نیک اعمال کے وزن سے بڑھ جاتا ہے تو اگرچہ نیک اعمال  کے اجر و ثواب بھی ان کو ملے مگر ان کا مجموعی وزن اس شدید گناہ کے وزن سے کم رہ کر بے اثر، بے فائدہ اور بے حقیقت ہوجاتا ہے، اس کو قبول نہ ہونے سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ 

لہذا مذکورہ وضاحت کی رو سے مشت زنی(اگرچہ  گناہ ہے)  کرنے   والے کے نیک اعمال( چاہے فرائض ہوں یا نوافل) قبول ہوتے  ہیں۔ 

صحیح مسلم میں ہے:

"عن صفية، عن بعض أزواج النبي صلى الله عليه وسلم عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: من ‌أتى ‌عرافا فسأله عن شيء، لم تقبل له صلاة أربعين ليلة".

(كتاب الآداب، باب تحريم الكهانة وإتيان الكهان، ج:4، ص:1751، ط:دار احياء التراث العربى)

مرقاۃ المفاتیح میں ہے:

"ففي الحديث ‌إشارة ‌إلى ‌أن ‌أعمال التائب لها درجة كمال القبول يشير إليه قوله سبحانه: {إنما يتقبل الله من المتقين} [المائدة: ٢٧] .

قال النووي: وأما عدم قبول صلاته فمعناه أنه لا ثواب له فيها، وإن كانت مجزئة في سقوط الفرض عنه، ولا يحتاج معها إلى إعادة".

(کتاب الطب والرقى، باب الكهانة، ج:7، ص:2905، ط:دار الفكر)

معارف السنن میں ہے: 

"ثم القبول قسمان، احدهما: ان يكون الشئي مستجمعا للاركان والشرائط، ويرادفه الصحة والاجزاء.  والثانى: كون الشئي يترتب عليه من وقوعه عند الله جل ذكره موقع الرضا ويترتب عليه الثواب والدرجات. وهذه المرتبة بعد الاولي".

(ابواب الطهارة، باب ما جاء لا تقبل صلاة بغير طهور، ج:1، ص:90، ط: مجلس الدعوة والتحقيق الاسلامى)

کفایت المفتی میں ہے:

"حدیثوں میں عدم قبول اعمال کا جو ذکر آیا ہے  اس  سے مراد  بھی یہی قبول رضا ہے۔ یا یہ مطلب ہے کہ بعض گناہ اپنی سے اس درجہ پر پہنچ جاتے ہیں کہ ان کا وزن طاعت کے وزن سے بڑھ جاتا ہے تو اگرچہ طاعات کے اجور اور ثواب بھی ملیں مگر ان کا مجموعی وزن اس شدید گناہ کے وزن سے کم رہ کر بے اثر اور بے فائدہ اور بے حقیقت ہوجاتا ہے۔ اس کو قبول نہ ہونے سے تعبیر کردیا گیا ہے".

(کتاب العقائد، ج:1، ص:355، ط:دار الاشاعت)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144504100801

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں