بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 محرم 1446ھ 16 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

مشا جرات صحابہ کے بارے میں گفتگو کرنے کا حکم


سوال

مشاجرات صحابہ کے بارے میں کف لسان کے حکم کے باوجود آج کل ہر عالم اس کے بارے میں بات کرتا ہے،کیا یہ صحیح ہے یا غلط؟کیا بالمقابل فرقہ کا رد کرنے کے لیےاس موضوع پر بات کی جاسکتی ہے یا نہیں؟اگر کی جاسکتی ہے تو کف لسان کا حکم کیوں دیا گیا؟

جواب

 مشاجرات کے معاملے میں سکوت ہی اختیار کرنا چاہیے، بحث مباحثہ،یا کسی فریق پر  لعن طعن کرناممنوع ہے۔ البتہ اگرکوئی ثقہ راسخ العلم عالم دین مخالف فرقہ کے پیدا کردہ  شکوکو شبہات کے ازالے کے لئے  مشاجرت صحابہ پر گفتگو کرتاہے تو صحیح ہے ،ورنہ اس موضوع پربحث کرنااور لوگوں   میں شکوک و شبہات پیدا کرنا  ممنوع ہے  ،نیز مقابل فرقہ کی تر دیدکرنادفاع صحابہ کے زمرے میں آتا ہے ،کف لسان والے حکم کے منافی نہیں ہے ،اور  صحابہ   کا دفاع خود  اللہ تعالی نے  اور   رسول اللہ ﷺنے بھی کیا  ہے۔

"المعجم الكبير للطبراني"  میں ہے:

"عن ابن مسعود أن النبي صلى الله عليه وسلم قال :"إذا ذُكر أصحابي فأمسكوا، وإذا ذكرت النجوم فأمسكوا، وإذا ذكر القدر فأمسكوا )."

( ٢ / ٩٦)

ترجمہ: "نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ: جب میرے اصحاب کا ( یعنی ان کے  باہمی اختلافات وغیرہ کا ) ذکر چھڑے تو باز آجاؤ، اور جب ستاروں کا ذکر چھڑے تو باز آجاؤ، اور جب تقدیر کا ذکر چھڑے تو رک جاؤ، ( یعنی اس میں زیادہ غور و خوض اور بحث و مباحثہ نہ کرو)۔"

فتح الباري لابن حجرمیں ہے:

"واتفق أهل السنة على وجوب منع الطعن علی أحد من الصحابة بسبب ما وقع لهم من ذلك، ولو عرف المحق منهم؛ لأنهم لم يقاتلوا في تلك الحروب إلا عن اجتهاد، وقد عفا الله تعالى عن المخطئ في الاجتهاد، بل ثبت أنه يؤجر أجراً واحداً، وأن المصيب يؤجر أجرين". 

(کتاب الفتن باب إذا التقیٰ المسلمان، ١٣ / ٤٣ )

ترجمہ: "اہل سنت اس بات پر متفق ہیں کہ صحابہ کے مابین واقع ہونے والے حوادث کی بنا پر ان میں کسی ایک صحابی پر طعن و تشنیع سے اجتناب واجب ہے،  اگرچہ یہ معلوم ہوجائے کہ فلاں صحابی کا موقف موقفِ حق تھا ؛ کیوں کہ انہوں نے ان لڑائیوں میں صرف اپنے اجتہاد کی بناپر حصہ لیا اور اللہ نے مجتہد مخطی کو معاف فرمادیا ہے، بلکہ یہ بات ثابت ہے کہ مجتہد کے اجتہاد میں خطا ہوجائے تب بھی اسے ایک گنا اجر ملے گا، اور جس کا اجتہاد درست ہوگا اسے دو گنا اجر ملے گا۔"

بلوغ الأماني من أسرار الفتح الرباني شرح الفتح الرباني لترتيب مسند الإمام أحمد بن حنبل الشيباني میں ہے:

"( قال النووي:) ... واعلم أن الدماء التي جرت بين الصحابة رضي الله عنهم ليست بداخلة في هذا الوعيد، و مذهب أهل السنة و الحق: إحسان الظن بهم و الإمساك عما شجر بينهم و تأويل قتالهم، و أنهم مجتهدون متأولون لم يقصدوا معصية و لا محض الدنيا، بل اعتقد كل فريق أنه المحق و مخالفه باغ، فوجب عليه قتاله ليرجع إلي امر الله، و كان بعضهم مصيباً و بغضهم مخطئاً معذوراً في الخطأ؛ لأنه لاجتهاد، و المجتهد إذا أخطأ لا إثم عليه، وكان علي رضي الله عنه هو المحق المصيب في تلك الحروب، هذا مذهب أهل السنة، وكانت القضايا مشتبهةً حتى أن جماعة من الصحابة تحيروا فيها فاعتزلوا الطائفتين و لم يقاتلوا و لم يتيقنوا الصواب، ثم تأخروا عن مساعدتهم، و الله اعلم".

( باب إحسان النية علي الخير و مضاعفة الاجر بسبب ذلك و ما جاء بسبب العزم و الهم، ١٩ / ٧ ، ط: دار إحياء التراث العربي، بيروت)

ترجمہ: "اہلِ سنت اہل حق کا مذہب یہ ہے کہ سب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں حسن ظن رکھا جائے، ان کے آپس کے اختلافات میں خاموشی اور ان کی لڑائیوں کی تاویل کی جائے۔ وہ بلا شبہ سب مجتہد اور صاحبِ رائے تھے معصیت اور نافرمانی ان کا مقصد نہ تھا اور نہ ہی محض دنیا طلبی پیش نظر تھی، بلکہ ہر فریق یہ اعتقاد رکھتا تھا کہ وہی حق پر ہے اور دوسرا باغی ہے اور باغی کے ساتھ لڑائی ضروری ہے؛ تاکہ وہ امر الٰہی کی طرف لوٹ آئے، اس اجتہاد میں بعض راہ صواب پر تھے اور بعض خطا پر تھے، مگر خطا کے باوجود وہ معذور تھے؛کیوں کہ اس کا سبب اجتہاد تھا اور مجتہد سے اگر خطا سرزد ہوجائے تو اس پر گناہ نہیں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ ان جنگوں میں حق پر تھے اہلِ سنت کا یہی موقف ہے، یہ معاملات بڑے مشتبہ تھے، یہاں تک کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت اس پر حیران و پریشان تھی جس کی بنا پر وہ فریقین سے علیحدہ رہی اور قتال میں انہوں نے حصہ نہیں لیا۔ "

مشكوةشريف ميں ہے :

"عن ابن عمر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إذا رأيتم الذين يسبون أصحابي فقولوا: لعنة الله على شركم."

ترجمہ:"جب تم ان لوگوں کو دیکھو جو میری صحابہ کو براکہتے ہوں تو تم ان  کو کہو اللہ کی لعنت ہو تمہارے شر پر ۔"

( باب الصحابہ  ۔ج:2،ص۔562 :ط ۔رحمانیہ)

اللہ تعالی نے جب قرآن مجید میں فرمایا کہ اللہ تعالی صحابہ کرام سے راضی ہے اور صحابہ کرام اللہ سے راضی ہیں تو پھر کسی کو اس بارے میں قاضی بننے کا کیا حق ہے، البتہ اہل باطل کے اعتراضات اور شکوک و شبہات کا جواب دینا علماء حق کی ذمہ داری ہے۔

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144508101322

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں