بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ذو القعدة 1445ھ 26 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

مصیبت یا آفت آنے کی صورت میں اس جگہ کھانا یا گوشت پھینکنے کا حکم


سوال

 جب آپ کسی سواری پہ چلتےچلتےکسی جگہ گرپڑے توآپ کےگھروالے  جاکر اس جگہ پر کھانا یا گوشت پھینکتےہیں تاکہ سب مصیبت و بلا دورہوجائے توکیایہ صحیح ہے یا غلط ؟ اگرغلط ہے توپھر صحیح کیاہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں بیان کردہ طریقہ شریعتِ مطہرہ میں ثابت نہیں ہے ،لہذاسواری سے گرجانے یاکسی مصیبت میں پھنس جانے کی صورت میں مذکورہ طریقہ اختیارکرنے سےاحتراز کیاجائے،البتہ احادیث سے یہ بات ثابت ہے کہ جب انسان پرکوئی مشکل آجائےیاتکلیف پہنچ جائے تواسے چاہیے کہ وہ صدقہ کرے ،اس لیے کہ صدقہ تکلیفوں اورمصیبتوں کو ٹالتاہے۔

سننِ ترمذی میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: صدقہ اللہ تعالی کے غصہ کو ٹھنڈا کرتا ہے اور بری موت سے بچاتا ہے۔ المعجم الاوسط میں ہے: چپکے سے صدقہ کرنا اللہ تعالی کے غصہ کو ٹھنڈا کرتا ہے۔

 حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: صدقہ دینے میں جلدی کرو، اس لیے کہ مصیبت اس سے آگے نہیں جاتی۔

اورایک حدیث میں آتاہےکہ  اللہ تعالی نے یحیی بن زکریا علیہ السلام کو حکم دیا کہ وہ بنی اسرائیل کو حکم دیں کہ وہ صدقہ دیں،  صدقہ کی مثال اس آدمی کی ہے جسے دشمن نے قید کیا ہو اور اس کا ہاتھ اس کی گردن سے باندھ دیا ہو؛ تاکہ اس کی گردن اڑادیں تو صدقہ آکر کہتا ہے کہ میں اسے کم یا زیادہ جتنا ہو، اس کے بدلے اسے چھڑاتا ہوں، تو اسے چھڑا کر لے جاتا ہے۔

سننِ ترمذی میں ہے:

"عن أنس بن مالك قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إن ‌الصدقة لتطفئ غضب الرب وتدفع ميتة السوء."

(باب ماجاء في فضل الصدقة ج : 3 ص: 43 ط : شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي  مصر)

وفیہ ایضاً:

"عن معاذ بن جبل، قال: كنت مع النبي صلى الله عليه وسلم في سفر، فأصبحت يوما قريبا منه ونحن نسير، فقلت: يا رسول الله أخبرني بعمل يدخلني الجنة ويباعدني عن النار، قال: «لقد سألتني عن عظيم، وإنه ليسير على من يسره الله عليه، تعبد الله ولا تشرك به شيئا، وتقيم الصلاة، وتؤتي الزكاة، وتصوم رمضان، وتحج البيت ثم قال: " ألا أدلك على أبواب الخير: الصوم جنة، والصدقة تطفئ الخطيئة كما يطفئ الماء النار، وصلاة الرجل من جوف الليل " قال: ثم تلا {تتجافى جنوبهم عن المضاجع} [السجدة: 16]، حتى بلغ (يعملون)."

(باب ماجاء في حرمة الصلاة ج : 5 ص : 11 ط :  شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي  مصر)

الجامع لمعمربن راشدالازدی میں ہے:

"عن يحيى بن أبي كثير، قال: بلغنا أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «أمر يحيى بن زكريا بخمس كلمات أن يبلغهن ويعلمهن بني إسرائيل، ويعمل بهن، ويأمر بني إسرائيل أن يعملوا بهن، فكأنه أبطأ فقيل لعيسى: مر يحيى أن يأمر بهذه الكلمات وإلا فأمر بهن أنت، فقال عيسى ليحيى ذلك، فقال يحيى: لا تفعل، فإني أخاف إن أمرت بهن أن أعذب أو يخسف الله بي الأرض، قال: فجمع يحيى بني إسرائيل في بيت المقدس حتى امتلأ المسجد، ثم جلسوا على شرفه فقال: إن الله أمرني بخمس كلمات أن أعلمكموهن وآمركم أن تعملوا بهن ثم قال: أولاهن: ألا تشركوا بالله شيئا....قال: وآمركم بالصدقة، فإن مثل ‌الصدقة كمثل رجل أخذه العدو فقدموه ليضربوا عنقه، فقال: ما تصنعون بضرب عنقي، ألا أفتدي نفسي منكم بكذا وكذا؟ قالوا: بلى، فافتدى نفسه منهم، فكذلك ‌الصدقة تطفئ الخطيئة."

(باب لزوم الجماعة ج : 11 ص : 339 ط : المجلس العلمي الهند، توزيع المكتب الإسلامي بيروت)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144403102322

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں