بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ربیع الاول 1443ھ 25 اکتوبر 2021 ء

دارالافتاء

 

مسلمان کا کافر کے گھر پر ڈاکا ڈالنا


سوال

اگر کسی کافر کے گھر میں کسی مسلمان نے ڈاکا ڈال کر سامان لوٹ لیا،اور کچھ دن کے بعد مسلمان مر گیا تو قیامت کے دن اس مسلمان کا کیا فیصلہ کیا جائے گا؟

جواب

جو کفار مسلمانوں کے ملک میں  ذمی کی حیثیت سے رہ رہے ہوں یا ویزہ لے کر مسلمانوں کے ملک میں آئے ہوں اور مستامن کی حیثیت سے ہوں تو  ان   کے اموال کا حکم مسلمانوں کے اموال کی طرح ہے، یعنی  ان کے اموال کو  لوٹنا اور ان کے گھر پر  ڈاکا ڈالنا  جائز نہیں ہے ،  نیز اسی طرح اگر کوئی مسلمان ویزہ لے کر کسی کافر ملک میں گیا ہو ،تو وہاں پر اس کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ کافر کا مال لوٹے یا اس کے گھر پر ڈاکا ڈالے ،لہذا اگر کوئی مسلمان کسی کافر کے گھر پر ڈاکا ڈالتا ہے تو وہ سخت گناہ گار ہے ،اور اگر اس نے مرنے سے پہلے توبہ نہ کی اور جس کا مال لوٹا تھا اس کو مال واپس نہیں کیا تو قیامت میں یہ مسلمان عذاب کا مستحق ہو گا ۔

قرآن مجید میں ہے :

{إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا أَنْ يُقَتَّلُوا أَوْ يُصَلَّبُوا أَوْ تُقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُمْ مِنْ خِلَافٍ أَوْ يُنْفَوْا مِنَ الْأَرْضِ ذَلِكَ لَهُمْ خِزْيٌ فِي الدُّنْيَا وَلَهُمْ فِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ (33) إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا مِنْ قَبْلِ أَنْ تَقْدِرُوا عَلَيْهِمْ فَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ}[المائدة: 33، 34]

حدیث شریف میں ہے:

"4047 - وعن صفوان بن سليم ، عن عدة من أبناء أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم ، عن آبائهم ، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : ( ألا من ظلم معاهدًا، أو انتقصه، أو كلفه فوق طاقته، أو أخذ منه شيئًا بغير طيب نفس ، فأنا حجيجه يوم القيامة) . رواه أبو داود."

(مشکاۃ المصابیح، کتاب الجهاد، باب الصلح، الفصل الثاني، ص:354، ط: قدیمی کراچی)

ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: خبردار! جس (مسلمان) شخص نے کسی معاہد کے ساتھ زیادتی کی، یا اس کا حق کم کیا، یا اس کی طاقت سے زیادہ اس پر بوجھ ڈالا، یا اس سے کوئی چیز اس کے طیبِ نفس کے بغیر لی تو قیامت کے دن میں اس کی طرف سے جھگڑوں گا۔ 

فتاوی شامی میں ہے:

’’ قال في الشرنبلالية: ويضمن المال لثبوت عصمة مال المستأمن حالا وإن لم يكن على التأبيد.‘‘(ج۴ص۱۱۳ط:سعید)

و فیه أیضًا:

’’ (هو من يدخل دار غيره بأمان) مسلمًا كان أو حربيًّا (دخل مسلم دار الحرب بأمان حرم تعرضه لشيء) من دم ومال وفرج (منهم) إذ المسلمون عند شروطهم ... (قوله إذ المسلمون عند شروطهم)؛ لأنه ضمن بالاستئمان أن لا يتعرض لهم، والغدر حرام‘‘.(ج۴ص۱۶۶ط:سعید)

البحرالرائق میں ہے:

’’ وقد قال علي - رضي الله عنه - إنما بذلوا الجزية لتكون دماؤهم كدمائنا وأموالهم كأموالنا وذلك بأن تكون معصومة بلا شبهة كالمسلم؛ ولهذا يقطع المسلم بسرقة مال الذمي‘‘.

(ج۸ص۳۳۷ط: دار الكتاب الإسلامي)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144205200490

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں