بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

20 ذو القعدة 1445ھ 29 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

مسلمان ابدال اور ابرار میں کیسے شمار ہوتاہے؟


سوال

کوئی مسلمان ابدال اور ابرار میں کیسے شمار ہوتا ہے ؟

جواب

واضح رہے کہ ابدال  اولیاء کے درجات میں سے ایک درجہ ہے،جوکہ وہبی ہے اس میں کسی  کے کسب و اختیار میں نہیں ہے،البتہ کچھ صفات ایسی ہیں جواگر کسی مسلمان کے اندر پیدا ہوجائیں تو وہ ابدال کی صف میں شامل ہوسکتا ہے،جیسا کہ حدیث شریف میں ہے:

"وعن معاذ بن جبل رضي الله تعالى عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "ثلاث من كن فيه فهو من الأبدال الذين بهم قوام الدنيا وأهلها: الرضا بالقضاء، والصبر عن محارم الله، والغضب في ذات الله".

(جمع الجوامع،493/4،ط:الأزهر الشريف القاهرة،و كنز العمال،187/12،ط:مؤسسة الرسالة)

ترجمہ:حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ"تین وصف جس شخص میں ہوں وہ ابدال میں سے ہے جس سے دنیا اوردنیا والوں کا قوام بنا ہوا ہے،اول صفت تقدیر پر راضی ہونا،دوم اللہ تعالی کی حرام کردہ چیزو ں سے صبراورپرہیز کرنااور سوم یہ کہ صرف اللہ کے لیے غصہ کرنا۔"

نیز ابدال کی صفات سے متعلق یہ بھی آتا ہے کہ ان( ابدال) کو جو بلند مرتبہ ملا ہے وہ نماز،روزوں اور صدقات کی کثرت کی وجہ سے حاصل نہیں ہوا ہے،بلکہ نفس کی صحیح تربیت،دلوں کی سلامتی اور اپنے اپنے اماموں یعنی بادشاہوں کو نصیحت اور خیر خواہی کی وجہ سے حاصل ہوا ہے،ایک روایت کے مطابق تمام مسلمانوں کی خیر خواہی کی وجہ سے حاصل ہواہے،جیسا کہ سیرت حلبیہ میں ہے:

"وجاء في وصف الأبدال: "إنهم لم ينالوا ما نالوا بكثرة صلاة ولا صيام ولا صدقة، ولكن بسخاء النفس، وسلامة القلوب، والنصيحة لأئمتهم"وفي لفظ:"لجميع المسلمين".

(السيرة الحلبية،430/3،ط:دارالكتب العلمية)

اسی طرح ابرار(نیک لوگوں) کی بھی کچھ صفات ہیں جو اگر کسی مسلمان کے اندر پیدا ہوجائیں تو وہ ابرار میں شمار ہوگا،جیسا کہ قرآن کریم میں ابرار کی صفات سے متعلق اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

 یُوْفُوْنَ بِالنَّذْرِ وَ یَخَافُوْنَ یَوْمًا كَانَ شَرُّهٗ مُسْتَطِیْرًا(۷)وَ یُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰى حُبِّهٖ مِسْكِیْنًا وَّ یَتِیْمًا وَّ اَسِیْرًا(۸)اِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللّٰهِ لَا نُرِیْدُ مِنْكُمْ جَزَآءً وَّ لَا شُكُوْرًا(۹)اِنَّا نَخَافُ مِنْ رَّبِّنَا یَوْمًا عَبُوْسًا قَمْطَرِیْرًا(۱۰)فَوَقٰىهُمُ اللّٰهُ شَرَّ ذٰلِكَ الْیَوْمِ وَ لَقّٰىهُمْ نَضْرَةً وَّ سُرُوْرًاۚ(۱۱)وَ جَزٰىهُمْ بِمَا صَبَرُوْا جَنَّةً وَّ حَرِیْرًاۙ(۱۲)(سورة الدهر)

ترجمہ:(ابرار)وہ لوگ(ہیں جو)واجبات کو پورا کرتے ہیں اور ایسے دن سے ڈرتے ہیں جس کی سختی عام ہوگی،اور وہ لوگ خدا کی محبت سے غریب اور یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں،ہم تم کو محض خدا کی رضامندی کے لیے کھانا کھلاتے ہیں،نہ ہم تم سے بدلہ چاہتے ہیں اور نہ شکریہ،ہم اپنے رب کی طرف سے ایک سخت اور تلخ دن کا اندیشہ رکھتے ہیں،سو اللہ تعالیٰ ان کو اس دن کی سختی سے محفوظ رکھےگااور ان کو تازگی اور خوشی عطا فرمائے گا،اور ان کی پختگی کے بدلہ میں ان کو جنت اور ریشمی لباس دے گا۔(ازبیان القرآن)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144310101498

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں